حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 512
۱۱۹۴ وقت یہ الہام ہوا تھا ہر چہ باید نوعرو سے راہمہ ساماں کنم یعنی اس شادی میں تجھے کچھ فکر نہیں کرنا چاہیئے۔ان تمام ضروریات کا رفع کرنا میرے ذمہ رہے گا۔سو قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس نے اپنے وعدہ کے موافق اس شادی کے بعد ہر ایک بار شادی سے مجھے سبکدوش رکھا اور مجھے بہت آرام پہنچا۔کوئی باپ دنیا میں کسی بیٹے کی پرورش نہیں کرتا جیسا کہ اس نے میری کی اور کوئی والدہ پوری ہشیاری سے دن رات اپنے بچہ کی ایسی خبر نہیں رکھتی جیسا کہ اس نے میری رکھی اور جیسا کہ اس نے بہت عرصہ پہلے براہین احمدیہ میں یہ وعدہ کیا تھا کہ " يَا اَحْمَدُ اسْكُنُ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ “ ایسا ہی وہ بجا لایا۔معاش کا غم کرنے کے لئے کوئی گھڑی اس نے میرے لئے خالی نہ رکھی۔تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۲۰۱ تا ۲۰۳) أَشْكُرُ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِيُجَتِى (براہین احمدیہ صفحہ 558) ترجمہ:۔میرا شکر کر کہ تو نے میری خدیجہ کو پایا۔یہ ایک بشارت کئی سال پہلے اس نکاح کی طرف تھی جو سادات کے گھر میں دہلی میں ہوا جس سے بفضلہ تعالیٰ چارلڑ کے پیدا ہوئے اور خدیجہ اس لئے میری بیوی کا نام رکھا کہ وہ ایک مبارک نسل کی ماں ہے۔جیسا کہ اس جگہ بھی مبارک نسل کا وعدہ تھا اور نیز بیہ اس طرف اشارہ تھا کہ وہ بیوی سادات کی قوم میں سے ہوگی۔نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۸ اصفه۵۲۵،۵۲۴) قریباً اٹھارہ برس سے ایک یہ پیشگوئی ہے۔اَلْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الصِّهْرَ وَالنَّسَبَ۔ترجمہ:۔وہ خدا سچا خدا ہے جس نے تمہارا دامادی کا تعلق ایک شریف قوم سے جو سید تھے کیا اور خود تمہاری نسب کو شریف بنایا جو فارسی خاندان اور سادات سے معجون مرکب ہے اس پیشگوئی کو دوسرے الہامات میں اور بھی تصریح سے بیان کیا گیا ہے۔یہاں تک کہ اس شہر کا نام بھی لیا گیا تھا جو دہلی ہے اور یہ پیشگوئی بہت سے لوگوں کو سُنائی گئی تھی۔اور جیسا کہ لکھا تھا ایسا ہی ظہور میں آیا۔کیونکہ بغیر سابق تعلقات قرابت اور رشتہ کے دہلی میں ایک شریف اور مشہور خاندان سیادت میں میری شادی ہوگئی۔اور یہ خاندان خواجہ میر درد کی لڑکی کی اولاد میں سے ہے جو مشا ہیرا کابر سادات دہلی میں سے ہے۔۔۔چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمایت اسلام کی ڈالے گا اور اس میں سے وہ شخص پیدا کرے گا جو آسمانی روح اپنے اندر رکھتا ہو گا اس لئے اُس نے پسند کیا کہ اس خاندان کی لڑکی میرے نکاح میں لا دے اور اس سے وہ اولاد پیدا کرے جوان نوروں کو جن کی میرے ہاتھ سے