حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 511
۱۱۹۳ شادی اور اولا دصالحہ قَدْ اَخْبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُوْدَ يَتَزَوَّجُ وَيُوْلَدُلَهُ فَفِي هذَا إِشَارَةٌ إِلى اَنَّ اللهَ يُعْطِيهِ وَلَدًا صَالِحًا يُشَابِهُ آبَاهُ وَلَا يَأْبَاهُ وَيَكُونُ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ الْمُكَرَّمِينَ وَالسِّرُّ فِى ذَالِكَ أَنَّ اللَّهَ لَا يُبَشِّرُ الْأَنْبِيَاءَ وَالْأَوْلِيَاءَ بِذُرِّيَّةٍ إِلَّا إِذَا قَدَّرَ تَولِيُدَ الصَّالِحِينَ ( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۵۷۸ حاشیہ ) جناب رسول اللہ علیہ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ يَتَزَوَّجُ وَ يُولَدُ لَهُ یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک) شادی کرتا ہے اور اولا د بھی ہوتی ہے اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیاہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔(ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا ا صفحہ ۳۳۷ حاشیہ) تخمیناً سولہ برس کا عرصہ گذرا ہے کہ میں نے شیخ حامد علی اور لالہ شرمیت کھتری ساکن قادیان اور لالہ ملا وامل کھتری ساکن قادیان اور جان محمد مرحوم ساکن قادیان اور بہت سے اور لوگوں کو یہ خبر دی تھی کہ خدا نے اپنے الہام سے مجھے اطلاع دی ہے کہ ایک شریف خاندان میں وہ میری شادی کرے گا اور وہ قوم کے سیڈ ہوں گے اور اس بیوی کو خدا مبارک کرے گا اور اس سے اولا د ہوگی۔اور یہ خواب ان ایام میں آئی تھی کہ جب میں بعض اعراض اور امراض کی وجہ سے بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا بلکہ قریب ہی وہ زمانہ گذر چکا تھا جب کہ مجھے دق کی بیماری ہو گئی تھی اور بباعث گوشہ گزینی اور ترک دنیا کے اہتمامات تابل سے دل سخت کارہ تھا اور عیالداری کے بوجھ سے طبیعت متنفر تھی تو اس حالت پر ملامت کے تصور کے لے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر دی ہے کہ مسیح موعود شادی کرے گا اور اس کا ایک مہتم بالشان بیٹا ہوگا۔پس اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک صالح بیٹا عطا کرے گا جو اپنے باپ سے مشابہ ہوگا اور اس سے ہٹ کر نہ ہوگا۔اور وہ اللہ کے مکرم بندوں میں سے ہوگا۔اور اس خبر میں یہ بھید ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء اور اولیاء کو اولاد کی بشارت صرف اس صورت میں دیتا ہے جب اس نے صالح اولاد کی پیدائش مقدر کی ہو۔