حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 506 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 506

۱۱۸۸ عقلمند کے لئے یہ ایک نکتہ نہایت ہدایت بخش ہے کہ پیشگوئیوں میں استعارات اور مجازات بھی ہوتے ہیں۔مگر تعلیم کے لئے تصریح اور تفصیل ضروری ہوتی ہے۔اس لئے جہاں کہیں تعلیم اور پیشگوئی کا تناقض معلوم ہو تو یہ لازم ہوتا ہے کہ تعلیم کو مقدم رکھا جائے اور پیشگوئی کو اگر اس کے مخالف ہو ظاہر الفاظ سے پھیر کر تعلیم کے مطابق اور موافق کر دیا جائے تا رفع تناقض ہو۔بہر حال تعلیمی مضمون کا لحاظ مقدم چاہیئے۔کیونکہ تعلیم علاوہ تصریح اور تفصیل کے اکثر معارض افادہ اور استفادہ میں آتی رہتی ہے لہذا اس کے مقاصد اور مدعا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتے برخلاف پیشگوئیوں کے کہ وہ اکثر گوشئہ گمنامی میں پڑی رہتی ہیں۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۱) واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) ایک وہ جو محض سماوی امور ہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا۔جیسے شق القمر جو ہمارے سید ومولی نبی ﷺ کا مجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔(۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الہی سے ملتی ہے۔جیسے حضرت سلیمان کا وہ معجزہ جو صرح مُّمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۳-۲۵۴ حاشیه ) جس معجزہ کو عقل شناخت کر کے اس کے منجانب اللہ ہونے پر گواہی دے وہ ان معجزات سے ہزا رہا درجہ افضل ہوتا ہے کہ جو صرف بطور کتھا یا قصہ کے مد منقولات میں بیان کئے جاتے ہیں۔اس ترجیح کے دو باعث ہیں۔ایک تو یہ کہ منقولی معجزات ہمارے لئے جو صد ہا سال اس زمانہ سے پیچھے پیدا ہوئے ہیں جب معجزات دکھلائے گئے تھے مشہود اور محسوس کا حکم نہیں رکھتے اوراخبارمنقولہ ہونے کے باعث سے وہ درجہ ان کو حاصل بھی نہیں ہو سکتا جو مشاہدات اور مرئیات کو حاصل ہوتا ہے۔دوسرے یہ کہ جن لوگوں نے منقولی معجزات کو جو تصرف عقل سے بالاتر ہیں مشاہدہ کیا ہے اُن کے لئے بھی وہ تسلی تام کا موجب نہیں ٹھہر سکتی کیونکہ بہت سے ایسے عجائبات بھی ہیں کہ ارباب شعبدہ بازی ان کو دکھلاتے پھرتے ہیں گو وہ مکر اور فریب ہی ہیں مگر اب مخالف بد اندیش پر کیونکر ثابت کر کے دکھلاویں کہ انبیاء سے جو عجائبات اس قسم کے ظاہر ہوئے ہیں کہ کسی نے سانپ بنا کر دکھلا دیا اور کسی نے مردہ کو زندہ کر کے دکھلا دیا۔یہ اس قسم کی النمل: ۴۵