حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 47
۷۲۹ اس سے مراد عمل بھی لیا گیا ہے۔کیونکہ ہر ایک عمل نیک ہو یا بد ہو وہ وقوع کے بعد پرندہ کی طرح پرواز کر جاتا ہے اور مشقت یا لذت اُس کی کالعدم ہو جاتی ہے اور دل پر اس کی کثافت یا لطافت باقی رہ جاتی ہے۔یہ قرآنی اصول ہے کہ ہر ایک عمل پوشیدہ طور پر اپنے نقوش جماتا رہتا ہے جس طور کا انسان کا فعل ہوتا ہے اس کے مناسب حال ایک خدا تعالیٰ کا فعل صادر ہوتا ہے اور وہ فعل اس گناہ کو یا اس کی نیکی کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اس کے نقوش دل پر ، منہ پر، آنکھوں پر، کانوں پر، ہاتھوں پر، پیروں پر لکھے جاتے ہیں اور یہی پوشیدہ طور پر ایک اعمال نامہ ہے جو دوسری زندگی میں کھلے طور پر ظاہر ہو جائے گا۔اور پھر ایک دوسری جگہ بہشتیوں کے بارے میں فرماتا ہے۔يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ لا یعنی اس دن بھی ایمانی نور جو پوشیدہ طور پر مومنوں کو حاصل ہے کھلے کھلے طور پر اُن کے آگے اور اُن کے داہنے ہاتھ پر دوڑ تا نظر آئے گا۔پھر ایک اور جگہ بدکاروں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اَلهُكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ۔ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ۔كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ نَتَرَوُنَ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ۔ثُمَّ لَتَسْلُنَ يَوْمَيذِ عَنِ النَّعِيمِ یعنی دنیا کی کثرت حرص و ہوا نے تمہیں آخرت کی تلاش سے روک رکھا یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پڑے۔دنیا سے دل مت لگاؤ تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا سے دل لگانا اچھا نہیں۔پھر میں کہتا ہوں کہ عنقریب تم جان لو گے کہ دنیا سے دل لگانا اچھا نہیں۔اگر تمہیں یقینی علم حاصل ہو تو تم دوزخ کو اسی دنیا میں دیکھ لو گے۔پھر برزخ کے عالم میں یقین کی آنکھوں کے ساتھ دیکھو گے۔پھر عالم حشر اجساد میں پورے مؤاخذہ میں آ جاؤ گے اور وہ عذاب تم پر کامل طور پر وارد ہو جائے گا اور صرف قال سے نہیں بلکہ حال سے تمہیں دوزخ کا علم حاصل ہو جائے گا۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۰۰ تا ۴۰۲) دوسرا دقیقہ معرفت جس کو عالم معاد کے متعلق قرآن شریف نے ذکر فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ عالم معاد میں وہ تمام امور جود نیا میں روحانی تھے جسمانی طور پر متمثل ہوں گے۔خواہ عالم معاد میں برزخ کا درجہ ہو یا عالم بعث کا درجہ۔اس بارے میں جو کچھ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے اس میں سے ایک یہ آیت ہے مَنْ كَانَ فِي هَذه أعلى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلا ا یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہو گا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہو گا۔اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اس جہان کی روحانی الحديد: ١٣ التكاثر : ٩٢ بنی اسرآئیل :۷۳