حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 505
۱۱۸۷ فوقتاً کھینچا جاتا ہے۔وہ روحانی عالم کا ایک عنکبوت ہوتا ہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اور خوارق کا یہی سر ہے بر کاروبار ہستی اثری ست عارفان را ز جہاں چہ دید آن کس کہ ندید ایں جہاں را لے برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۲۹ تا ۳۱ حاشیه ) واضح ہو کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں (۱) نشان تخویف وتعذیب جن کو قہری نشان بھی کہہ سکتے ہیں۔(۲) نشان تبشیر و تسکین جن کو نشان رحمت سے بھی موسوم کر سکتے ہیں۔تخویف کے نشان سخت کافروں اور کنج دلوں اور نافرمانوں اور بے ایمانوں اور فرعونی طبیعت والوں کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں تاوہ ڈریں اور خدائے تعالیٰ کی قہری اور جلالی ہیبت ان کے دلوں پر طاری ہو۔اور تبشیر کے نشان ان حق کے طالبوں اور مخلص مومنوں اور سچائی کے متلاشیوں کے لئے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو دل کی غربت اور فروتنی سے کامل یقین اور زیادت ایمان کے طلبگار ہیں اور تبشیر کے نشانوں سے ڈرانا اور دھمکانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ اپنے ان مطیع بندوں کو مطمئن کرنا اور ایمانی اور یقینی حالات میں ترقی دینا اور اُن کے مضطرب سینہ پر دست شفقت و تسلی رکھنا مقصود ہوتا ہے۔سو مومن قرآن شریف کے وسیلے سے ہمیشہ تبشیر کے نشان پاتارہتا ہے اور ایمان اور یقین میں ترقی کرتا جاتا ہے۔تبشیر کے نشانوں سے مومن کو تسلی ملتی ہے اور وہ اضطراب جو فطرتاً انسان میں ہے جاتا رہتا ہے اور سکینت دل پر نازل ہوتی ہے۔مومن بہ برکت اتباع کتاب اللہ اپنی عمر کے آخری دن تک تبشیر کے نشانوں کو پاتا رہتا ہے اور تسکین اور آرام بخشنے والے نشان اس پر نازل ہوتے رہتے ہیں تا وہ یقین اور معرفت میں بے نہایت ترقیاں کرتا جائے اور حق الیقین تک پہنچ جائے۔اور تبشیر کے نشانوں میں ایک لطف یہ ہوتا ہے کہ جیسے مومن ان کے نزول سے یقین اور معرفت اور قوت ایمان میں ترقی کرتا ہے ایسا ہی وہ بوجہ مشاہدہ آلاء ونعماء الہی واحسانات ظاہرہ و باطنہ وجلیہ وخفیہ حضرت باری عز اسمہ جو تبشیر کے نشانوں میں بھرے ہوئے ہوتے ہیں محبت و عشق میں بھی دن بدن بڑھتا جاتا ہے۔سو حقیقت میں عظیم الشان اور قوی الاثر اور مبارک اور موصل الی المقصو د تبشیر کے نشان ہی ہوتے ہیں جو سالک کو معرفت کاملہ اور محبت ذاتیہ کی اس مقام تک پہنچا دیتے ہیں جو اولیاء اللہ کے لئے منتہی المقامات ہے۔ایک عیسائی کے تین سوال اور ان کے جوابات۔روحانی خزائن جلدہ صفحہ ۴۳۶ ، ۴۳۷ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن) لے اس دنیا کے کاروبار پر خدا رسیدہ لوگوں کا اثر ہے۔جس نے یہ کیفیت نہیں دیکھی اس نے اس دنیا سے کیا دیکھا۔