حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 504 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 504

۱۱۸۶ مخفی در مخفی اسباب کے نتائج ہیں اور بچے اور حقیقی سائنس پر مبنی ہیں۔کوتاہ اندیش اور تاریک فلسفہ کے دلدادہ اسے نہیں سمجھ سکتے۔(رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷، صفحہ ۱۳۷- ملفوظات جلد اول صفحہ ۷۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) اس جگہ ایک اور سر یاد رکھنے کے لائق ہے اور وہ یہ ہے کہ اولیاء سے جو خوارق کبھی اس قسم کے ظہور میں آتے ہیں کہ پانی ان کو ڈ یو نہیں سکتا اور آگ ان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی اس میں بھی دراصل یہی بھید ہے کہ حکیم مطلق جس کے بے انتہا اسرار پر انسان حاوی نہیں ہوسکتا اپنے دوستوں اور مقربوں کے توجہ کے وقت کبھی یہ کرشمہ قدرت دکھلاتا ہے کہ وہ توجہ عالم میں تصرف کرتی ہے اور جن ایسے مخفی اسباب کے جمع ہونے سے مثلاً آگ کی حرارت اپنے اثر سے رک سکتی ہے خواہ وہ اسباب اجرام علوی کی تا شیریں ہوں یا خود مثلاً آگ کی کوئی مخفی خاصیت یا اپنے بدن کی ہی کوئی مخفی خاصیت یا ان تمام خاصیتوں کا مجموعہ ہو وہ اسباب اس توجہ اور اس دعا سے حرکت میں آتی ہیں۔تب ایک امر خارق عادت ظاہر ہوتا ہے۔مگر اس سے حقائق اشیاء کا اعتبار نہیں اٹھتا اور نہ علوم ضائع ہوتے ہیں بلکہ یہ تو علوم الہیہ میں سے خود ایک علم ہے اور یہ اپنے مقام پر ہے اور مثلاً آگ کا محرک بالخاصیت ہونا اپنے مقام پر بلکہ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ روحانی مواد ہیں جو آگ پر غالب آکر اپنا اثر دکھاتے ہیں اور اپنے وقت اور اپنے محل سے خاص ہیں۔اس دقیقہ کو دنیا کی عقل نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کامل خدا تعالے کے روح کا جلوہ گاہ ہوتا ہے اور جب کبھی کامل انسان پر ایک ایسا وقت آجاتا ہے کہ وہ اس جلوہ کا عین وقت ہوتا ہے تو اس وقت ہر یک چیز اس سے ایسی ڈرتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سے۔اس وقت اس کو درندہ کے آگے ڈال دو، آگ میں ڈال دو وہ اس سے کچھ بھی نقصان نہیں اٹھائے گا۔کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کی روح اس پر ہوتی ہے اور ہر یک چیز کا عہد ہے کہ اس سے ڈرے۔یہ معرفت کا ایک اخیری بھید ہے جو بغیر صحبت کا ملین سمجھ میں نہیں آسکتا۔چونکہ یہ نہایت دقیق اور پھر نہایت درجہ نادر الوقوع ہے اس لئے ہر ایک فہم اس فلاسفی سے آگاہ نہیں۔مگر یاد رکھو کہ ہر یک چیز خدا تعالیٰ کی آواز سنتی ہے۔ہر یک چیز پر خدا تعالیٰ کا تصرف ہے اور ہر ایک چیز کی تمام دوریاں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔اس کی حکمت ایک بے انتہا حکمت ہے جو ہر یک ذرہ کی جڑھ تک پہنچی ہوئی ہے اور ہر یک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں۔جو شخص اس بات پر ایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِةٍ کے مصداق ہیں۔اور چونکہ انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے۔اس لئے تمام عالم اس کی طرف وقتاً الانعام: ۹۲