حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 502
۱۱۸۴ ثابت کروں۔مگر اس جگہ یادر ہے کہ قرآن کریم ہمیں اقتدار نہیں بخشتا بلکہ ایسے کلمہ سے ہمارے بدن پر لرزہ آتا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ وہ کس قسم کا نشان دکھلائے گا۔وہی خدا ہے۔سوا اسکے اور کوئی خدا نہیں۔ہاں یہ ہماری طرف سے اس بات کا عہد پختہ ہے۔جیسا کہ اللہ جل شانہ نے میرے پر ظاہر کر دیا ہے کہ ضرور مقابلہ کے وقت میں فتح پاؤں گا مگر یہ معلوم نہیں کہ خدا تعالے کس طور سے نشان دکھلائے گا۔اصل مدعا تو یہ ہے کہ نشان ایسا ہو کہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر ہو۔یہ کیا ضرور ہے کہ ایک بندہ کو خدا ٹھہرا کر اقتدار کے طور پر اس سے نشان مانگا جائے۔ہمارا یہ مذہب نہیں اور نہ ہمارا یہ عقیدہ ہے۔اللہ جل شانہ ہمیں صرف عموم اور کلی طور پر نشان دکھلانے کا وعدہ دیتا ہے۔اگر اس میں میں جھوٹا نکلوں تو جو سز ا آپ تجویز کریں خواہ سزائے موت ہی کیوں نہ ہو مجھے منظور ہے لیکن اگر آپ حد اعتدال وانصاف کو چھوڑ کر مجھ سے ایسے نشان چاہیں گے جس طرز سے حضور مسیح بھی دکھلا نہیں سکے بلکہ سوال کرنے والوں کو ایک دو گالیاں سنا دیں تو ایسے نشان دکھلانے کا دم مارنا بھی میرے نزدیک کفر ہے۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۷) قرآن شریف میں اقتراحی نشانوں کے مانگنے والوں کو یہ جواب دیا گیا تھا کہ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنْتُ إِلَّا بَشَرًا رَسُولاً لا یعنی خدا تعالیٰ کی شان اس تہمت سے پاک ہے کہ کسی اس کے رسول یا نبی یا ملہم کو یہ قدرت حاصل ہو کہ جو الوہیت کے متعلق خارق عادت کام ہیں ان کو وہ اپنی قدرت سے دکھلائے اور فرمایا کہ ان کو کہدے کہ میں تو صرف آدمیوں میں سے ایک رسول ہوں جو اپنی طرف سے کسی کام کے کرنے کا مجاز نہیں ہوں محض امرالہی کی پیروی کرتا ہوں۔پھر مجھ سے یہ درخواست کرنا کہ یہ نشان دکھلا اور یہ نہ دکھلا سراسر حماقت ہے۔جو کچھ خدا نے کہا وہی دکھلا سکتا ہوں نہ اور کچھ۔تحفہ غزنویہ۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۴۰) بہت سے معجزات ہیں جو صرف ذاتی اقتدار کے طور پر آنحضرت ﷺ نے دکھلائے جن کے ساتھ کوئی دعا نہ تھی۔کئی دفعہ تھوڑے سے پانی کو جو صرف ایک پیالہ میں تھا اپنی انگلیوں کو اس پانی کے اندر داخل کرنے سے اس قدر زیادہ کر دیا کہ تمام لشکر اور اونٹوں اور گھوڑوں نے وہ پانی پیا اور پھر بھی وہ پانی ویسا ہی اپنی مقدار پر موجود تھا۔اور کئی دفعہ دو چار روٹیوں پر ہاتھ رکھنے سے ہزار ہا بھوکوں، پیاسوں کا ان سے شکم سیر کر دیا۔اور بعض اوقات تھوڑے دودھ کو اپنی لبوں سے برکت دے کر ایک جماعت کا پیٹ اس بنی اسرائیل: ۹۴