حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 501
۱۱۸۳ اس سے ایک نشان لیوے۔یہ جبر اور اقتدار تو آپ ہی کی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔بقول آپ کے مسیح اقتداری معجزات دکھلاتا تھا اور اُس نے شاگردوں کو بھی اقتدار بخشا اور آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ اب بھی حضرت مسیح زنده حتی، قیوم، قادر مطلق عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے جو چاہو وہی دے سکتا ہے۔پس اب حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ ان تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھا کر دیویں تا نشانی ایمانداری کی آپ میں باقی رہ جاوے۔ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف اہل حق کے ساتھ بحیثیت بچے عیسائی ہونے کے مباحثہ کریں اور جب بچے عیسائی کے نشان مانگے جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں۔اس بیان سے تو آپ اپنے پر ایک اقبالی ڈگری کراتے ہیں کہ آپ کا مذہب اس وقت زندہ مذہب نہیں ہے۔لیکن ہم جس طرح پر خدا تعالیٰ نے ہمارے بچے ایماندار ہونے کے نشان ٹھہرائے ہیں اس التزام سے نشان دکھلانے کو تیار ہیں۔اگر نشان نہ دکھلا سکیں تو جو سزا چاہیں دے دیں اور جس طرح کی چھری چاہیں ہمارے گلے میں پھیر دیں اور وہ طریق نشان نمائی کا جس کے لئے ہم مامور ہیں وہ یہ ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے جو ہمارا سچا اور قادر خدا ہے۔اس مقابلہ کے وقت جو ایک سچے اور کامل نبی کا انکار کیا جاتا ہے تضرع سے کوئی نشان مانگیں تو وہ اپنی مرضی سے نہ ہمارا محکوم اور تابع ہو کر جس طرح سے چاہے گا نشان دکھلائے گا۔میرا دعوی نہ خدائی کا ہے اور نہ اقتدار کا اور میں ایک مسلمان آدمی ہوں جو قرآن شریف کی پیروی کرتا ہوں اور قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے اس موجودہ نجات کا مدعی ہوں۔میرا نبوت کا کوئی دعوی نہیں یہ آپ کی غلطی ہے یا آپ کسی خیال سے کہہ رہے ہیں۔کیا یہ ضروری ہے کہ جو الہام کا دعویٰ کرتا ہے وہ نبی بھی ہو جائے۔میں تو محمدی اور کامل طور پر اللہ و رسول کا متبع ہوں اور ان نشانوں کا نام معجزہ رکھنا نہیں چاہتا بلکہ ہمارے مذہب کے رو سے ان نشانوں کا نام کرامات ہے جو اللہ رسول کی پیروی سے دیئے جاتے ہیں۔تو پھر میں دعوت حق کی غرض سے دوبارہ اتمام حجت کرتا ہوں کہ یہ حقیقی نجات اور حقیقی نجات کے برکات اور ثمرات صرف انہی لوگوں میں موجود ہیں جو حضرت محمد مصطفے علم کی پیروی کرنے والے اور قرآن کریم کے احکام کے نیچے تابعدار ہیں۔اور میرا دعویٰ قرآن کریم کے مطابق صرف اتنا ہے کہ اگر کوئی حضرت عیسائی صاحب اس نجات حقیقی کے منکر ہوں جو قرآن کریم کے وسیلے سے مل سکتی ہے تو انہیں اختیار ہے کہ وہ میرے مقابل پر نجات حقیقی کی آسمانی نشانیاں اپنے مسیح سے مانگ کر پیش کریں اور اس طرف میرے پر لازم ہوگا کہ میں سچا ایماندار ہونے کی نشانیاں قرآن کریم کے رُو سے اپنے وجود میں۔