حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 499
۱۱۸۱ عیسوی اور محمدیت کے بارہ میں بموجب ان قواعد و اسناد کے جوان ہر دو میں عام مانی جاتی ہیں آپ سے گفتگو کر رہے ہیں۔خیر تاہم چونکہ آپ کو ایک خاص قدرت الہی دکھانے پر آمادہ ہو کے ہم کو برائے مقابلہ بلاتے ہیں تو ہمیں دیکھنے سے گریز بھی نہیں یعنی معجزہ یا نشانی پس ہم یہ تین شخص پیش کرتے ہیں جن میں ایک اندھا ایک ٹانگ کٹا اور ایک گونگا ہے۔ان میں سے جس کسی کو صحیح سالم کر سکو کر دو اور جو اس معجزہ سے ہم پر فرض و واجب ہوگا ہم ادا کرینگے۔آپ بقول خود ایسے خدا کے قائل ہیں جو گفتہ قادر نہیں لیکن درحقیقت قادر ہے تو وہ ان کو تندرست بھی کر سکے گا۔پھر اس میں تامل کی کیا ضرورت ہے اور ضرور بقول آپ کے راستباز کے ساتھ ہوگا۔ضرور ہو گا۔آپ خلق اللہ پر رحم فرمائیے جلد فرمائیے اور آپ کو خبر ہوگی کہ آج یہ معاملہ پڑتا ہے۔جس خدا نے الہام سے آپ کو خبر دے دی کہ اس جنگ و میدان میں تجھے فتح ہے اس نے ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا ہو گا کہ اندھے و دیگر مصیبت زدوں نے بھی پیش ہونا ہے۔سوسب عیسائی صاحبان و محمدی صاحبان کے روبرو اسی وقت اپنا چیلنج پورا کیجیے۔بیان حضرت مرزا صاحب واضح ہو کہ میں نے ڈپٹی عبداللہ صاحب کی خدمت میں یہ تحریر کیا تھا کہ جیسا کہ آپ دعوی کرتے ہیں کہ نجات صرف مسیحی مذہب میں ہے۔ایسا ہی قرآن میں لکھا ہے کہ نجات صرف اسلام میں ہے اور آپ کا تو صرف اپنے لفظوں کے ساتھ دعوئی اور میں نے وہ آیات بھی پیش کر دی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ دعوئی بغیر ثبوت کے کچھ عزت اور وقعت نہیں رکھتا۔سو اس بناء پر دریافت کیا گیا تھا کہ قرآن کریم میں تو نجات یا بندہ کی نشانیاں لکھی ہیں جن نشانوں کے مطابق ہم دیکھتے ہیں کہ اس مقدس کتاب کی پیروی کرنے والے نجات کو اسی زندگی میں پالیتے ہیں مگر آپ کے مذہب میں حضرت عیسی نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہاں موجود ہیں۔مثلاً جیسے کہ مرقس ۱۶-۱۷ میں لکھا ہے:۔اور وے جو ایمان لائیں گے ان کے ساتھ یہ علامتیں ہوں گی کہ وہ میرے نام سے دیووں کو نکالیں گے اور نئی زبانیں بولیں گے۔سانپوں کو اٹھا لیں گے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پیئیں گے انہیں کچھ نقصان نہ ہوگا۔وے بیماروں پر ہاتھ رکھیں گے تو چنگے ہو جائیں گے۔،، تواب میں بادب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اس کی معافی