حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 494 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 494

1127 ہونا ممکن ہے کہ جو پورے یقین سے حاصل ہو سکتا ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ مذہب کی اصلی سچائی خدائے تعالیٰ کی ہستی کی شناخت سے وابستہ ہے۔بچے مذہب کے ضروری اور اہم لوازم میں سے یہ امر ہے کہ اس میں ایسے نشان پائے جائیں جو خدائے تعالی کی ہستی پر قطعی اور یقینی دلالت کریں۔( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۵۹-۶۰) اس جگہ اس بات کا جواب دینا بھی مناسب ہے کہ اگر سب امور قوانین از لیہ وابد یہ میں داخل ہیں یعنی پہلے ہی سے بندھے ہوئے چلے آتے ہیں تو پھر معجزات کیا شئے ہیں۔سو جاننا چاہیے کہ بیشک یہ تو سیچ ہے کہ قوانین از لیہ وابد یہ سے یا یوں کہو کہ خدائے تعالیٰ کے ازلی ارادہ اور اس کے قضاء و قدر سے کوئی چیز باہر نہیں گو ہم اس پر اطلاع پاویں یا نہ پاویں جَفَّ القَلَمُ بِمَاهُوَ كَائِنٌ مگر اس عادت الہیہ نے جو دوسرے لفظوں میں قانون قدرت سے موسوم ہو سکتی ہے بعض چیزوں کے ظہور کو بعض کیسا تھ مشروط کر رکھا ہے۔پس جو امور ازلی ابدی ارادہ نے مقدسوں کی دعاؤں اور ان کی برکات انفاس اور ان کی توجہ اور اُن کی عقد ہمت اور ان کے اقبال ایام سے وابستہ کر رکھے ہیں اور ان کے تضرعات اور ابتہالات پر مترتب کی جاتی ہیں وہ امور جب انہیں شرائط اور انہیں وسائل سے ظہور میں آتے ہیں تب ان امور کو اس خاص حالت میں معجزہ یا کرامت یا نشان یا خارق عادت کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔اور اس جگہ خارق عادت کے لفظ سے اس شبہ میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ کونسا امر ہے جو عادتِ الہیہ سے باہر ہے کیونکہ اس محل میں خارق عادت کے قول سے ایک مفہوم اضافی مراد ہے یعنی یوں تو عادات از لیہ وابد یہ خدائے کریم جلشانہ سے کوئی چیز باہر نہیں مگر اس کی عادات جو بنی آدم سے تعلق رکھتی ہیں دوطور کی ہیں۔ایک عادات عامہ جو روپوش اسباب ہو کر سب پر مؤثر ہوتی ہیں۔دوسری عادات خاصہ جو بتوسط اسباب اور بلاتوسط اسباب خاص ان لوگوں سے تعلق رکھتی ہیں جو اس کی محبت اور رضا میں کھوئی جاتی ہیں۔یعنی جب انسان بکلی خدائے تعالیٰ کی طرف انقطاع کر کے اپنی عادات بشریہ کو استرضاء حق کے لئے تبدیل کر دیتا ہے تو خدائے تعالیٰ اُس کی اس حالت مبدلہ کے موافق اس کے ساتھ ایک خاص معاملہ کرتا ہے جو دوسروں سے نہیں کرتا۔یہ خاص معاملہ نسبتی طور پر گویا خارق عادت ہے جس کی حقیقت انہی پرکھلتی ہے جو عنایات الہی سے اس طرف کھینچے جاتے ہیں۔جب انسان اپنی بشری عادتوں کو جو اس میں اور اس کے رب میں حائل ہیں شوق توصل الہی میں توڑتا ہے تو خدائے تعالیٰ بھی اپنی عام عادتوں کو اس کے لئے تو ڑ دیتا ہے۔یہ توڑنا بھی عادات ازلیہ میں سے ہے کوئی امر مستحدث نہیں ہے جو مورد اعتراض ہو سکے۔گویا