حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 490
۱۱۷۲ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۷۱,۷۰ ) ساکن جمال پورضلع لدھیانہ۔خدا نے میرے لئے آسمان پر رمضان میں سورج اور چاند کا خسوف کسوف کیا اور ایسا ہی زمین پر بہت سے نشان ظہور میں آئے اور سنت اللہ کے موافق حجت پوری ہوگئی۔اور مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر آپ لوگ اپنے دلوں کو صاف کر کے کوئی اور نشان خدا کا دیکھنا چاہیں تو وہ خداوند قدیر بغیر اس کے کہ آپ لوگوں کے کسی اقتراح کا تابع ہو اپنی مرضی اور اختیار سے نشان دکھلانے پر قادر ہے۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ لوگ سچے دل سے توبہ کی نیت کر کے مجھ سے مطالبہ کریں اور خدا کے سامنے یہ عہد کر لیں کہ اگر کوئی فوق العادت امر جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے ظہور میں آ جائے تو ہم یہ تمام بغض اور شحناء چھوڑ کر محض خدا کو راضی کرنے کے لئے سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں گے تو ضرور خدا تعالیٰ کوئی نشان دکھائے گا کیونکہ وہ رحیم اور کریم ہے لیکن میرے اختیار میں نہیں ہے کہ میں نشان دکھلانے کے لئے دو تین دن مقرر کر دوں یا آپ لوگوں کی مرضی پر چلوں۔یہ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کہ جو چاہے تاریخ مقرر کرے۔( اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۳۷۵،۳۷۴) اگر کوئی تلاش کرتا کرتا مر بھی جائے تو ایسی کوئی پیشگوئی جو میرے منہ سے نکلی ہو اس کو نہیں ملے گی جس کی نسبت وہ کہہ سکتا ہو کہ خالی گئی مگر بے شرمی سے یا بے خبری سے جو چاہے کہے اور میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ہزار ہا میری ایسی کھلی کھلی پیشگوئیاں ہیں جو نہایت صفائی سے پوری ہوگئیں جن کے لاکھوں انسان گواہ ہیں۔ان کی نظیر اگر گذشتہ نبیوں میں تلاش کی جائے تو بجز آنحضرت عہ کے کسی اور جگہ ان کی مثل نہیں ملے گی۔میں یقیناً جانتا ہوں کہ اس زمانہ میں جس طرح خدا تعالیٰ قریب ہو کر ظاہر ہو رہا ہے اور صدہا امور غیب اپنے بندہ پر کھول رہا ہے اس زمانہ کی گذشتہ زمانوں میں بہت ہی کم مثال ملے گی۔لوگ عنقریب دیکھ لیں گے کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا چہرہ ظاہر ہوگا۔گویا وہ آسمان سے اترے گا۔اُس نے بہت مدت تک اپنے تئیں چھپائے رکھا اور انکار کیا گیا اور چپ رہا لیکن وہ اب نہیں چھپائے گا اور دنیا اس کی قدرت کے وہ نمونے دیکھے گی کہ کبھی ان کے باپ دادوں نے نہیں دیکھے تھے۔یہ اس لئے ہو گا کہ زمین بگڑ گئی اور آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے پر لوگوں کا ایمان نہیں رہا۔ہونٹوں پر اس کا ذکر ہے لیکن دل اس سے پھر گئے ہیں۔اس لئے خدا نے کہا کہ اب میں نیا آسمان اور نئی زمین بناؤں گا۔اس کا مطلب یہی ہے کہ زمین مرگئی۔یعنی زمینی لوگوں کے دل سخت ہو گئے گویا مر گئے