حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 485 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 485

1172 اور مفتری نہیں بلکہ صادق ہوں۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۹۰،۱۸۹) میری نسبت جو کچھ ہمدردی قوم نے کی ہے وہ ظاہر ہے اور غیر قوموں کا بغض ایک طبعی امر ہے ان لوگوں نے کونسا پہلو میرے تباہ کرنے کا اُٹھا رکھا۔کونسا ایڈا کا منصوبہ ہے جو انتہا تک نہیں پہونچایا۔کیا بد دعاؤں میں کچھ کسر رہی یاقتل کے فتوے نامکمل رہے یا ایذا اور توہین کے منصوبے کما حقہ ظہور میں نہ آئے۔پھر وہ کونسا ہاتھ ہے جو مجھے بچاتا ہے۔اگر میں کاذب ہوتا تو چاہئیے تو یہ تھا کہ خدا خود میرے ہلاک کرنے کے لئے اسباب پیدا کرتا نہ یہ کہ وقتا فوقتا لوگ اسباب پیدا کریں اور خدا ان اسباب کو معدوم کرتا رہے۔کیا یہی کاذب کی نشانیاں ہوا کرتی ہیں کہ قرآن بھی اس کی گواہی دے اور آسمانی نشان بھی اس کی تائید میں نازل ہوں اور عقل بھی اسی کی مؤید ہو اور جو اس کی موت کے شائق ہوں وہی مرتے جائیں۔میں ہرگز یقین نہیں کرتا کہ زمانہ نبوی کے بعد کسی اہل اللہ اور اہل حق کے مقابل پر کبھی کسی مخالف کو ایسی صاف اور صریح شکست اور ذلت پہونچی ہو جیسا کہ میرے دشمنوں کو میرے مقابل پر پہنچی ہے۔اگر انہوں نے میری عزت پر حملہ کیا تو آخر آپ ہی بے عزت ہوئے اور اگر میری جان پر حملہ کر کے یہ کہا کہ اس شخص کے صدق اور کذب کا معیار یہ ہے کہ وہ ہم سے پہلے مرے گا تو پھر آپ ہی مر گئے۔(ضمیمہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۴۶،۴۵) وہ خدا جس کا قومی ہاتھ زمینوں اور آسمانوں اور ان سب چیزوں کو جو اُن میں ہیں ، تھامے ہوئے ہے وہ کب انسان کے ارادوں سے مغلوب ہو سکتا ہے اور آخر ایک دن آتا ہے جو وہ فیصلہ کرتا ہے۔پس صادقوں کی یہی نشانی ہے کہ انجام انہی کا ہوتا ہے۔خدا اپنی تجلیات کے ساتھ ان کے دل پر نزول کرتا ہے۔پس کیونکر وہ عمارت منہدم ہو سکے جس میں وہ حقیقی بادشاہ فروکش ہے ٹھٹھا کرو جس قدر چاہو۔گالیاں دو جس قدر چاہو اور ایذا تکلیف دہی کے منصوبے سوچو جس قدر چاہو اور میرے استیصال کے لئے ہر ایک قسم کی تدبیریں اور مکر سوچو جس قدر چاہو۔پھر یا درکھو کہ عنقریب خدا تمہیں دکھلا دے گا کہ اس کا ہاتھ غالب ہے۔نادان کہتا ہے کہ میں اپنے منصوبوں سے غالب ہو جاؤں گا۔مگر خدا کہتا ہے کہ اے لعنتی دیکھ۔میں تیرے سارے منصوبے خاک میں ملا دوں گا۔اگر خدا چاہتا تو ان مخالف مولویوں اور اُن کے پیروؤں کو آنکھیں بخشا اور وہ ان وقتوں اور موسموں کو پہچان لیتے جن میں خدا کے مسیح کا آنا ضروری تھا۔لیکن ضرور تھا کہ قرآن شریف اور احادیث کی وہ پیشگوئیاں پوری ہوتیں جن میں لکھا تھا کہ مسیح موعود