حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 484

سے ان طریقوں میں سے کسی طریق کو قبول کر لیں یعنی یا تو میعاد دو ماہ میں جو مارچ ۱۸۹۷ء کی دس تاریخ تک مقرر کرتا ہوں۔اس عربی رسالہ کا ایسا ہی فصیح و بلیغ جواب چھاپ کر شائع کریں یا بالمقابل ایک جگہ بیٹھ کر زبان عربی میں میرے مقابل میں سات آیت قرآنی کی تفسیر لکھیں اور یا ایک سال تک میرے پاس نشان دیکھنے کیلئے رہیں اور یا اشتہار شائع کر کے اپنے ہی گھر میں میرے نشان کی ایک برس تک انتظار کریں اور یا مباہلہ کر لیں۔ششم۔اور اگر ان باتوں میں سے کوئی بھی نہ کریں تو مجھ سے اور میری جماعت سے سات سال تک اس طور سے صلح کر لیں کہ تکفیر و تکذیب اور بد زبانی سے منہ بند رکھیں اور ہر ایک کو محبت اور اخلاق سے ملیں اور قہر الہی سے ڈر کر ملاقاتوں میں مسلمانوں کی عادت کے طور پر پیش آویں۔ہر ایک قسم کی شرارت اور خباثت کو چھوڑ دیں۔پس اگر ان سات سال میں میری طرف سے خدا تعالیٰ کی تائید سے اسلام کی خدمت میں نمایاں اثر ظاہر نہ ہوں اور جیسا کہ مسیح کے ہاتھ سے ادیان باطلہ کا مرجانا ضروری ہے یہ موت جھوٹے دینوں پر میرے ذریعہ سے ظہور میں نہ آوے یعنی خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے وہ نشان ظاہر نہ کرے جن سے اسلام کا بول بالا ہو اور جس سے ہر ایک طرف سے اسلام میں داخل ہونا شروع ہو جائے اور عیسائیت کا باطل معبو دفنا ہو جائے اور دنیا اور رنگ نہ پکڑ جائے تو میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے تئیں کا ذب خیال کرلوں گا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں ہرگز کاذب نہیں۔یہ سات برس کچھ زیادہ سال نہیں ہیں اور اس قدر انقلاب اس تھوڑی مدت میں ہو جانا انسان کے اختیار میں ہرگز نہیں۔پس جبکہ میں سچے دل سے اور خدا تعالے کی قسم کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں۔تو اب تم خدا سے ڈرو۔اگر میں خدا تعالے کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جاؤں گا ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کرسکتا۔(ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۳۰۴ تا ۳۱۹) اب ہمارا اور مخالفوں کا جھگڑا انتہا تک پہنچ گیا ہے اور اب یہ مقدمہ وہ خود فیصلہ کرے گا جس نے مجھے بھیجا ہے۔اگر میں صادق ہوں تو ضرور ہے کہ آسمان میرے لئے ایک زبردست گواہی دے جس سے بدن کانپ جائیں اور اگر میں پچیس سالہ مجرم ہوں جس نے اس مدت دراز تک خدا پر افتراء کیا تو میں کیونکر بچ سکتا ہوں۔اس صورت میں اگر تم سب میرے دوست بھی بن جاؤ تب بھی میں ہلاک شدہ ہوں کیونکہ خدا کا ہاتھ میرے مخالف ہے۔اے لوگو ! تمہیں یاد رہے کہ میں کاذب نہیں بلکہ مظلوم ہوں