حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 483

۱۱۶۵ درخت بن جاتا ہے جو پھل اور پھول لاتا ہے اور حق جوئی کے پرندے اس میں آرام کرتے ہیں۔المشتهر میرزاغلام احمد از قادیان ۵ / مارچ ۱۹۰۱ء تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۶ تا ۸ - مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۴۹۸، ۴۹۹ بار دوم ) میں دوبارہ حق کے طالبوں کے لئے عام اعلان دیتا ہوں کہ اگر وہ اب بھی نہیں سمجھے تو نئے سرے اپنی تسلی کر لیں اور یا درکھیں کہ خدا تعالیٰ سے چھ طور کے نشان میرے ساتھ ہیں:۔اول۔اگر کوئی مولوی عربی کی بلاغت فصاحت میں میری کتاب کا مقابلہ کرنا چاہے گا تو وہ ذلیل ہوگا۔میں ہر ایک متکبر کو اختیار دیتا ہوں کہ اسی عربی مکتوب کے مقابل پر طبع آزمائی کرے۔اگر وہ اس عربی کے مکتوب کے مقابل پر کوئی رسالہ بالتزام مقدار نظم ونثر بنا سکے اور ایک مادری زبان والا جوعربی ہو قسم کھا کر اس کی تصدیق کر سکے تو میں کا ذب ہوں۔دوم۔اور اگر یہ نشان منظور نہ ہو تو میرے مخالف کسی سورۃ قرآنی کی بالمقابل تفسیر بناویں یعنی روبرو ایک جگہ بیٹھ کر بطور فال قرآن شریف کھولا جائے اور پہلی سات آیتیں جو نکلیں۔ان کی تفسیر میں بھی عربی میں لکھوں اور میر امخالف بھی لکھے۔پھر اگر میں حقائق معارف کے بیان کرنے میں صریح غالب نہ رہوں تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں۔سوم۔اور اگر یہ نشان بھی منظور نہ ہو تو ایک سال تک کوئی مولوی نامی مخالفوں میں سے میرے پاس رہے۔اگر اس عرصہ میں انسان کی طاقت سے برتر کوئی نشان مجھ سے ظاہر نہ ہو تو پھر بھی میں جھوٹا ہوں گا۔چہارم۔اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو ایک تجویز یہ ہے کہ بعض نامی مخالف اشتہار دے دیں کہ اس تاریخ کے بعد ایک سال تک اگر کوئی نشان ظاہر ہو تو ہم تو بہ کریں گے اور مصدق ہو جائیں گے پس اس اشتہار کے بعد اگر ایک سال تک مجھ سے کوئی نشان ظاہر نہ ہوا جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو خواہ پیشگوئی ہو یا اور تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں۔پنجم۔اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو شیخ محمد حسین بطالوی اور دوسرے نامی مخالف مجھ سے مباہلہ کرلیں۔پس اگر مباہلہ کے بعد میری بددعا کے اثر سے ایک بھی خالی رہا تو میں اقرار کروں گا کہ میں جھوٹا ہوں۔یہ طریق فیصلہ ہیں جو میں نے پیش کئے ہیں اور میں ہر ایک کو خدا تعالیٰ کی قسم دیتا ہوں کہ اب سچے دل