حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 482
۱۱۶۴ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ الصُّلْحُ خَيْر اے علمائے قوم جو میرے مکذب اور مکفر ہیں یا میری نسبت متذبذب ہیں آج پھر میرے دل میں خیال آیا کہ میں ایک مرتبہ پھر آپ صاحبوں کی خدمت میں مصالحت کے لئے درخواست کروں۔مصالحت سے میری یہ مراد نہیں ہے کہ میں آپ صاحبوں کو اپنا ہم عقیدہ بنانے کے لئے مجبور کروں یا اپنے عقیدہ کی نسبت اس بصیرت کے مخالف کوئی کمی بیشی کروں جو خدا نے مجھ کو عطا فرمائی ہے بلکہ اس جگہ مصالحت سے صرف یہ مراد ہے کہ فریقین ایک پختہ عہد کریں کہ وہ اور تمام وہ لوگ جو ان کے زیر اثر ہیں، ہر ایک قسم کی سخت زبانی سے بازر ہیں اور کسی تحریر یا تقریر یا اشارہ کنایہ سے فریق مخالف کی عزت پر حملہ نہ کریں اور اگر دونوں فریق میں سے کوئی صاحب اپنے فریق مخالف کی مجلس میں جائیں تو جیسا کہ شرط تہذیب اور شائستگی ہے، فریق ثانی مدارات سے پیش آئیں۔۔اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے نہیں ہے تو خود یہ سلسلہ تباہ ہو جائے گا اور اگر خدا کی طرف سے ہے تو کوئی دشمن اس کو تباہ نہیں کر سکتا۔اس لئے محض قلیل جماعت خیال کر کے تحقیر کے درپے رہنا طریق تقویٰ کے برخلاف ہے۔یہی تو وقت ہے کہ ہمارے مخالف علماء اپنے اخلاق دکھلا ئیں۔ورنہ جب یہ احمدی فرقہ دنیا میں چند کروڑ انسانوں میں پھیل جائے گا اور ہر ایک طبقہ کے انسان اور بعض ملوک بھی اس میں داخل ہو جائیں گے جیسا کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے تو اس زمانہ میں تو یہ کینہ اور بغض خود بخود دلوگوں کے دلوں سے دور ہو جائے گا لیکن اس وقت کی مخالطت اور مدارات خدا کے لئے نہیں ہوگی اور اس وقت مخالف علماء کا نرمی اختیار کرنا تقویٰ کی وجہسے نہیں سمجھا جائے گا۔تقوی دکھلانے کا آج ہی دن ہے جب کہ یہ فرقہ دنیا میں بجز چند ہزار انسان کے زیادہ نہیں ہے۔بالفعل اس اندرونی تفرقہ کے مٹانے کے لئے اس سے بہتر کوئی تدبیر نہیں۔آئندہ جس فریق کے ساتھ خدا ہوگا وہ خود غالب ہوتا جائے گا۔دنیا میں سچائی اول چھوٹے سے تخم کی طرح آتی ہے اور پھر رفتہ رفتہ ایک عظیم الشان