حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 480 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 480

١١٦٢ تھوڑی سی بات کو بہت دور ڈال دیا اور خدائے تعالیٰ کو اس بات پر قادر نہ سمجھا کہ جو چاہے کرے اور جس کو چاہے مامور کر کے بھیجے۔کیا انسان اس سے لڑ سکتا ہے یا آدم زاد کو اس پر اعتراض کرنے کا حق پہنچتا ہے کہ تو نے ایسا کیوں کیا ، ایسا کیوں نہیں کیا۔آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۳۴، ۳۳۵) افسوس ان لوگوں کی حالتوں پر ان لوگوں نے خدا اور اس کے رسول کے فرمودہ کی کچھ بھی عزت نہ کی۔اور صدی پر بھی سترہ برس گزر گئے۔مگر ان کا مجد داب تک کسی غار میں پوشیدہ بیٹھا ہے۔مجھ سے یہ لوگ کیوں بخل کرتے ہیں۔اگر خدا نہ چاہتا تو میں نہ آتا۔بعض دفعہ میرے دل میں یہ بھی خیال آیا کہ میں درخواست کروں کہ خدا مجھے اس عہدہ سے علیحدہ کرے اور میری جگہ کسی اور کو اس خدمت سے ممتاز فرمائے۔پر ساتھ ہی میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ اس سے زیادہ اور کوئی سخت گناہ نہیں کہ میں خدمت سپردکردہ میں بزدلی ظاہر کروں۔جس قدر میں پیچھے ہٹنا چاہتا ہوں۔اسی قدر خدا تعالے مجھے کھینچ کر آگے لے آتا ہے۔میرے پر ایسی رات کو ئی کم گذرتی ہے جس میں مجھے یہ تسلی نہیں دی جاتی کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور میری آسمانی فوجیں تیرے ساتھ ہیں اگر چہ جولوگ دل کے پاک ہیں مرنے کے بعد خدا کو دیکھیں گے لیکن مجھے اس کے منہ کی قسم ہے کہ میں اب بھی اس کو دیکھ رہا ہوں۔دنیا مجھ کو نہیں پہچانتی لیکن وہ مجھے جانتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے۔یہ ان لوگوں کی غلطی ہے اور سراسر بدقسمتی ہے کہ میری تباہی چاہتے ہیں۔میں وہ درخت ہوں جس کو مالک حقیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔جو شخص مجھے کاٹنا چاہتا ہے اس کا نتیجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ وہ قارون اور یہودا اسکر یوطی اور ابوجہل کے نصیب سے کچھ حصہ لینا چاہتا ہے۔میں ہر روز اس بات کے لئے چشم پر آب ہوں کہ کوئی میدان میں نکلے اور منہاج نبوت پر مجھ سے فیصلہ کرنا چاہے۔پھر دیکھے کہ خدا کس کے ساتھ ہے مگر میدان میں نکلنا کسی محنت کا کام نہیں۔ہاں غلام دستگیر ہمارے ملک پنجاب میں کفر کے لشکر کا ایک سپاہی تھا جو کام آیا۔اب ان لوگوں میں سے اس کی مثل بھی کوئی نکلنا محال اور غیر ممکن ہے۔اے لوگو! تم یقینا سمجھ لو کہ میرے ساتھ وہ ہاتھ ہے جو اخیر تک مجھ سے وفا کرے گا۔اگر تمہارے مرد اور تمہاری عورتیں اور تمہارے جوان اور تمہارے بوڑھے اور تمہارے چھوٹے اور تمہارے بڑے سب مل کر میرے ہلاک کرنے کے لئے دعائیں کریں۔یہاں تک کہ سجدے کرتے کرتے ناک گل جائیں اور ہاتھ شل ہو جائیں تب بھی خدا ہرگز تمہاری دعا نہیں سنے گا اور نہیں رکے گا جب تک وہ اپنے کام کو پورا نہ کرلے۔اور اگر انسانوں