حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 475
۱۱۵۷ جاں بری کے آثار نہ پائے جائیں تو لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں گے۔اور میں ہمیشہ کی لعنت کے ساتھ ذکر کیا جاؤں گا اور میں ابھی لکھ دیتا ہوں کہ اس صورت میں مجھے کا ذب مورد لعنت الہی یقین کرنا چاہیئے اور پھر اس کے بعد میں دجال یا ملعون یا شیطان کہنے سے ناراض نہیں اور اس لائق ہوں گا کہ ہمیشہ کے لئے لعنت کے ساتھ ذکر کیا جاؤں اور اپنے مولا کے فیصلہ کو فیصلہ ناطق سمجھوں گا اور میری پیروی کرنے والا یا مجھے اچھا اور صادق سمجھنے والا خدا کے قہر کے نیچے ہوگا۔پس اس صورت میں میرا انجام نہایت ہی بد ہو گا جیسا کہ بدذات کا ذبوں کا انجام ہوتا ہے۔لیکن اگر خدا نے ایک سال تک مجھے موت اور آفات بدنی سے بچالیا اور میرے مخالفوں پر قہر اور غضب الہی کے آثار ظاہر ہو گئے اور ہر یک ان میں سے کسی نہ کسی بلا میں مبتلا ہو گیا اور میری بددعا نہایت چمک کے ساتھ ظاہر ہوگئی تو دنیا پر حق ظاہر ہو جائے گا اور یہ روز کا جھگڑا درمیان سے اٹھ جائے گا۔میں دوبارہ کہتا ہوں کہ میں نے پہلے اس سے کبھی کلمہ گو کے حق میں بددعا نہیں کی اور صبر کرتا رہا مگر اس روز خدا سے فیصلہ چاہوں گا اور اس کی عصمت اور عزت کا دامن پکڑوں گا کہ تاہم میں سے فریق ظالم اور دروغگو کو تباہ کر کے اس دین متین کو شریروں کے فتنہ سے بچائے۔میں یہ بھی شرط کرتا ہوں کہ میری دعا کا اثر صرف اس صورت میں سمجھا جائے کہ جب تمام وہ لوگ جو مباہلہ کے میدان میں بالمقابل آویں ، ایک سال تک ان بلاؤں میں سے کسی بلا میں گرفتار ہو جائیں اگر ایک بھی باقی رہا تو میں اپنے تئیں کا ذب سمجھوں گا اگر چہ وہ ہزار ہوں یا دو ہزار اور پھر ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا اور اگر میں مر گیا تو ایک خبیث کے مرنے سے دنیا میں ٹھنڈ اور آرام ہو جائے گا۔میرے مباہلہ میں یہ شرط ہے کہ اشخاص مندرجہ ذیل میں سے کم سے کم دس آدمی حاضر ہوں۔اس سے کم نہ ہوں اور جس قدر زیادہ ہوں میری خوشی اور مراد ہے۔کیونکہ بہتوں پر عذاب الہی کا محیط ہو جانا ایک ایسا کھلا کھلا نشان ہے جو کسی پر مشتبہ نہیں رہ سکتا۔گواہ رہ اے زمین اور اے آسمان کہ خدا کی لعنت اس شخص پر کہ اس رسالہ کے پہنچنے کے بعد نہ مباہلہ میں حاضر ہو اور نہ تکفیر اور تو ہین کو چھوڑے اور نہ ٹھٹھا کرنے والوں کی مجلسوں سے الگ ہو۔اور اے مومنو! برائے خدا تم سب کہو کہ آمین۔مجھے افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا کہ آج تک ان ظالم مولویوں نے اس صاف اور سیدھے فیصلے کی طرف رخ ہی نہیں کیا تا اگر میں اُن کے خیال میں کاذب تھا تو احکم الحاکمین کے حکم سے اپنی سزا کو پہنچ جاتا۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحه ۶۴ تا ۶۷)