حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 473
۱۱۵۵ پانچ ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی۔تاہم یقینا سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔وہ راضی نہیں ہو گا جب تک کہ اس کو کمال تک نہ پہنچا دے اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گر داحاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز ترقیات دے گا۔کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام ونشان باقی نہ رہتا۔اسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں آپ لوگوں کے سامنے مباہلہ کی درخواست پیش کروں۔تا جوراستی کا دشمن ہے وہ تباہ ہو جائے اور جو اندھیرے کو پسند کرتا ہے وہ عذاب کے اندھیرے میں پڑے پہلے میں نے کبھی ایسے مباہلہ کی نیت نہیں کی اور نہ چاہا کہ کسی پر بددعا کروں۔عبدالحق غزنوی ثم امرتسری نے مجھ سے مباہلہ چاہا مگر میں مدت تک اعراض کرتا رہا۔آخر اس کے نہایت اصرار سے مباہلہ ہوا۔مگر میں نے اس کے حق میں کوئی بددعا نہیں کی لیکن اب میں بہت ستایا گیا اور دکھ دیا گیا۔مجھے کافر ٹھہرایا گیا۔مجھے دجال کہا گیا۔میرا نام شیطان رکھا گیا۔مجھے کذاب اور مفتری سمجھا گیا۔میں ان کے اشتہاروں میں لعنت کے ساتھ یاد کیا گیا۔میں ان کی مجلسوں میں نفرین کے ساتھ پکارا گیا۔میری تکفیر پر آپ لوگوں نے ایسی کمر باندھی کہ گویا آپ کو کچھ بھی شک میرے کفر میں نہیں۔ہر ایک نے مجھے گالی دینا اجر عظیم کا موجب سمجھا اور میرے پر لعنت بھیجنا اسلام کا طریق قرار دیا۔پر ان سب تلخیوں اور دکھوں کے وقت خدا میرے ساتھ تھا۔ہاں وہی تھا جو ہر یک وقت مجھ کو تسکی اور اطمینان دیتا رہا۔کیا ایک کیڑا ایک جہان کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ذرہ تمام دنیا کا مقابلہ کرے گا ؟ کیا ایک دروغگو کی ناپاک روح یہ استقامت رکھتی ہے؟ کیا ایک نا چیز مفتری کو یہ طاقتیں حاصل ہوسکتی ہیں؟ سویقیناً سمجھو کہ تم مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے لڑ رہے ہو۔کیا تم خوشبو اور بد بو میں فرق نہیں کر سکتے۔کیا تم سچائی کی شوکت کو نہیں دیکھتے۔بہتر تھا کہ تم خدا تعالیٰ کے سامنے روتے اور ایک ترساں اور ہراساں دل کے ساتھ اس سے میری نسبت ہدایت طلب کرتے اور پھر یقین کی پیروی کرتے نہ شک اور وہم کی۔سواب اُٹھو اور مباہلہ کے لئے طیار ہو جاؤ۔تم سن چکے ہو کہ میرا دعویٰ دو باتوں پر مبنی تھا۔اول نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر۔دوسرے الہامات الہیہ پر۔سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کی کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکا توڑ کر پھینک دے۔اب میرے بناء دعویٰ کا دوسراشق باقی رہا۔سو میں اس ذات قادر غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایمان دار رد نہیں کر سکتا، کہ اب اس دوسری بناء کی تصفیہ کے لئے مجھ سے مباہلہ کرلو۔