حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 472 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 472

۱۱۵۴ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں۔اس طرح پر کہ اول آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل از روئے قرآن اور حدیث کے سناؤں۔اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کروں۔سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی ہیں اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بطالوی اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے تمام وہ مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے ، چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں۔اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ بالا مباہلہ نہ کیا اور نہ کافر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی۔میں اول یہ چاہتا تھا کہ وہ تمام بے جا الزامات جو میری نسبت ان لوگوں نے قائم کر کے موجب کفر قرار دیے ہیں اس رسالہ میں ان کا جواب شائع کروں لیکن بباعث بیمار ہو جانے کا تب اور حرج واقعہ ہونے کے ابھی تک وہ حصہ طبع نہیں ہوسکا۔سو میں مباہلہ کی مجلس میں وہ مضمون بہر حال سنادوں گا۔اگر اس وقت طبع ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو۔لیکن یاد رہے کہ ہماری طرف سے یہ شرط ضروری ہے کہ تکفیر کا فتویٰ لکھنے والوں نے جو کچھ سمجھا ہے اوّل اس تحریر کی غلطی ظاہر کی جائے اور اپنی طرف سے دلائل شافیہ کے ساتھ اتمام حجت کیا جائے اور پھر اگر باز نہ آویں تو اسی مجلس میں مباہلہ کیا جائے۔اور مباہلہ کی اجازت کے بارہ میں جو کلام الہی میرے پر نازل ہوا وہ یہ ہے:۔نَظَرَ اللهُ إِلَيْكَ مُعَطَّرًا۔وَقَالُوا أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ۔قَالُوا كِتَابٌ مُمْتَلِيٌّ مِّنَ الْكُفْرِ والْكِذَبِ۔قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَا وَنَا وَابْنَا وَ كُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَأَنْفُسَنَا وَانْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَةَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ - یعنی خدا تعالیٰ نے ایک معطر نظر سے تجھ کو دیکھا اور بعض لوگوں نے اپنے دلوں میں کہا کہ اے خدا کیا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کر دے گا کہ جو دنیا میں فساد پھیلاوے۔تو خدا تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے اور ان لوگوں نے کہا کہ اس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے سو اُن کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم مع اپنی عورتوں اور بیٹوں اور عزیزوں کے مباہلہ کریں۔پھر ان پر لعنت کریں جو کا ذب ہیں۔یہ وہ اجازت مباہلہ ہے جو اس عاجز کو دی گئی۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۶۱ تا ۲۶۶) اب اے مخالف مولویو! اور سجادہ نشینوں !! یہ نزاع ہم میں اور تم میں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور اگر چہ یہ جماعت به نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فیہ قلیلہ ہے اور شاید اس وقت تک چار ہزار