حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 471

۱۱۵۳ طاقتوں سے باہر ہو اسلام کو قبول کرے گا تو میں امید رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہوگا کہ وہ نشان کو دیکھ لے گا کیونکہ میں اس زندگی میں سے نور لیتا ہوں جو میرے نبی متبوع کو ملی ہے۔کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے۔اب اگر عیسائیوں میں کوئی طالب حق ہے یا ہندوؤں اور آریوں میں سے سچائی کا متلاشی ہے تو میدان میں نکلے اور اگر اپنے مذاہب کو سچا سمجھتا ہے تو بالمقابل نشان دکھلانے کے لئے کھڑا ہو جائے لیکن میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ ہرگز ایسا نہ ہوگا بلکہ بدنیتی سے پیچ در پیچ شرطیں لگا کر بات کو ٹال دیں گے کیونکہ ان کا مذہب مردہ ہے اور کوئی اُن کے لئے زندہ فیض رساں موجود نہیں جس سے وہ روحانی فیض پاسکیں اور نشانوں کے ساتھ چمکتی ہوئی زندگی حاصل کر سکیں۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۴۱،۱۴۰) اول دنوں میں میرا یہ بھی خیال تھا کہ مسلمانوں سے کیونکر مباہلہ کیا جائے کیونکہ مباہلہ کہتے ہیں ایک دوسرے پر لعنت بھیجنا اور مسلمان پرعہ بھیجا جائز نہیں مگر اب چونکہ وہ لوگ بڑے اصرار سے مجھ کو کا فرٹھہراتے ہیں اور حکم شرع یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو کافر ٹھہرادے اگر وہ شخص درحقیت کافر نہ ہو تو وہ کفر الٹ کر اسی پر پڑتا ہے جو کافر ٹھہراتا ہے۔اسی بناء پر مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ جولوگ تجھ کو کافر ٹھہراتے ہیں اور ابناء اور نساء رکھتے ہیں اور فتویٰ کفر کے پیشوا ہیں ، ان سے مباہلہ کی درخواست کر۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۳۳۲) پہلے صرف اس وجہ سے میں نے مباہلہ سے اعراض کیا تھا کہ میں جانتا تھا کہ مسلمانوں سے ملاعنہ جائز نہیں۔مگر اب مجھ کو بتلایا گیا کہ جو مسلمان کو کافر کہتا ہے اور اس کو اہل قبلہ اور کلمہ گو اور عقائد اسلام کا معتقد پا کر پھر بھی کافر کہنے سے باز نہیں آتا وہ خود دائرہ اسلام سے خارج ہے۔سو میں مامور ہوں کہ ایسے لوگوں سے جو آئمۃ التکفیر ہیں اور مفتی اور مولوی اور محدث کہلاتے ہیں اور ابناء اور نساء بھی رکھتے ہیں، مباہلہ کروں اور پہلے ایک عام مجلس میں ایک مفصل تقریر کے ذریعہ سے ان کو اپنے دلائل سمجھا دوں اور اسی مجلس میں ان کے تمام الزامات اور شبہات کا جو ان کے دل میں خلجان کرتے ہیں جواب بھی دے دوں اور پھر اگر کافر کہنے سے باز نہ آویں تو ان سے مباہلہ کروں۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶ ۲۵ - ۲۵۷) ان تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں جو اس عاجز کو جزئی اختلافات کی وجہ سے یا اپنی نافہمی کے باعث سے کافر ٹھہراتے ہیں۔عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مامور ہو گیا ہوں کہ تا میں آپ