حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 470
۱۱۵۲ طرف سے تو نہیں مگر دجال آیا۔بھلا اب کوئی پادری تو میرے سامنے لاؤ جو یہ کہتا ہو کہ آنحضرت ﷺ نے کوئی پیشگوئی نہیں کی۔یاد رکھو کہ وہ زمانہ مجھ سے پہلے ہی گذر گیا۔اب وہ زمانہ آگیا جس میں خدا یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ رسول محمد عربی جس کو گالیاں دی گئی تھیں۔جس کے نام کی بے عزتی کی گئی جس کی تکذیب میں بدقسمت پادریوں نے کئی لاکھ کتابیں اس زمانہ میں لکھ کر شائع کر دیں۔وہی سچا اور بچوں کا سردار ہے۔اس کے قبول میں حد سے زیادہ انکار کیا گیا۔مگر آخر اسی رسول کو تاج عزت پہنایا گیا۔اس کے غلاموں اور خادموں میں سے ایک میں ہوں جس سے خدا مکالمہ ومخاطبہ کرتا ہے اور جس پر خدا کے غیوں اور نشانوں کا دروازہ کھولا گیا ہے۔اے نادانو ! تم کفر کہو یا کچھ کہو، تمہاری تکفیر کی اس شخص کو کیا پر وا ہے جو خدا کے حکم کے موافق دین کی خدمت میں مشغول ہے اور اپنے پر خدا کی عنایات کو بارش کی طرح دیکھتا ہے۔وہ خدا جو مریم کے بیٹے کے دل پر اُتر ا تھا وہی میرے دل پر بھی اُترا ہے مگر اپنی تجلی میں اس سے زیادہ۔وہ بھی بشر تھا اور میں بھی بشر ہوں اور جس طرح دھوپ دیوار پر پڑتی ہے اور دیوار نہیں کہہ سکتی کہ میں سورج ہوں اس لئے ہم دونوں ان تجلیات سے اپنے نفس کی کوئی ذاتی عزت نہیں نکال سکتے کیونکہ وہ حقیقی آفتاب کہہ سکتا ہے کہ مجھ سے الگ ہوکر پھر دیکھ کہ تجھ میں کونسی عزت ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸۵ تا ۲۸۷) مجھے خدا نے اپنی طرف سے قوت دی ہے کہ میرے مقابل پر مباحثہ کے وقت کوئی پادری ٹھہر نہیں سکتا اور میرا رعب عیسائی علماء پر خدا نے ایسا ڈال دیا ہے کہ ان کو طاقت نہیں رہی کہ میرے مقابلہ پر آ سکیں۔چونکہ خدا نے مجھے روح القدس سے تائید بخشی ہے اور اپنا فرشتہ میرے ساتھ کیا ہے اس لئے کوئی پادری میرے مقابل پر آ ہی نہیں سکتا یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ سے کوئی معجزہ نہیں ہوا، کوئی پیشگوئی ظہور میں نہیں آئی۔اور اب بلائے جاتے ہیں پر نہیں آتے۔اس کا یہی سبب ہے کہ ان کے دلوں میں خدا نے ڈال دیا ہے کہ اس شخص کے مقابل پر ہمیں بجز شکست کے اور کچھ نہیں۔(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۱۵۰،۱۴۹) اور مجھے اس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے کہ اگر کوئی سخت دل عیسائی یا ہندو یا آریہ میرے ان گذشتہ نشانوں سے جو روز روشن کی طرح نمایاں ہیں انکار بھی کر دے اور مسلمان ہونے کے لئے کوئی نشان چاہے اور اس بارے میں بغیر کسی بیہودہ حجت بازی کے جس میں بدنیتی کو بو پائی جائے ،سادہ طور پر یہ اقرار بذریعہ کسی اخبار کے شائع کر دے کہ وہ کسی نشان کے دیکھنے سے گوگوئی نشان ہو لیکن انسانی