حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 469 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 469

۱۱۵۱ جو دس ہزار روپیہ کے قریب ہوگی اس کے حوالے کر دوں گا یا جس طور سے اس کی تسلی ہو سکے اسی طور سے تاوان ادا کرنے میں اس کو تسلی دوں گا۔میرا خدا واحد شاہد ہے کہ میں ہرگز فرق نہیں کروں گا اور اگر سزائے موت بھی ہو تو بدل و جان روا رکھتا ہوں۔میں دل سے یہ کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچ کہتا ہوں اور اگر کسی کو شک ہو اور میری اس تجویز پر اعتبار نہ ہو تو وہ آپ ہی کوئی احسن تجویز تاوان کی پیش کرے میں اس کو قبول کرلوں گا۔میں ہرگز عذر نہیں کروں گا۔اگر میں جھوٹا ہوں تو بہتر ہے کہ کسی سخت سزا سے ہلاک ہو جاؤں اور اگر میں سچا ہوں تو چاہتا ہوں کہ کوئی ہلاک شدہ میرے ہاتھ سے بچ جائے۔اے حضرات پادری صاحبان جو اپنی قوم میں معزز اور ممتاز ہو ، آپ لوگوں کو اللہ جل شانہ کی قسم ہے جو اس طرف متوجہ ہو جاؤ۔اگر آپ لوگوں کے دلوں میں ایک ذرہ اس صادق انسان کی محبت ہے جس کا نام عیسی مسیح ہے تو میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ضرور میرے مقابلہ کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔آپ کو اس خدا کی قسم ہے جس نے مسیح کو مریم صدیقہ کے پیٹ سے پیدا کیا۔جس نے انجیل نازل کی جس نے مسیح کو وفات دے کر پھر مُردوں میں نہیں رکھا بلکہ اپنی زندہ جماعت ابراہیم اور موسیٰ اور سکی اور دوسرے نبیوں کے ساتھ شامل کیا اور زندہ کر کے انہی کے پاس آسمان پر بلا لیا۔جو پہلے اس سے زندہ کئے گئے تھے کہ آپ لوگ میرے مقابلہ کے لئے ضرور کھڑے ہو جائیں۔اگر حق تمہارے ہی ساتھ ہے اور بیچ بیچ مسیح خدا ہی ہے تو پھر تمہاری فتح ہے اور اگر وہ خدا نہیں ہے اور ایک عاجز اور نا تو ان انسان ہے۔اور حق اسلام میں ہے تو خدا تعالے میری سنے گا اور میرے ہاتھ پر وہ امرظاہر کر دے گا جس پر آپ لوگ قادر نہیں ہو سکیں گے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۷۶ - ۲۷۷) ایک وہ زمانہ تھا کہ پادری لوگ محض اپنے تعصب سے یہ بکواس کرتے تھے کہ قرآن شریف میں کوئی پیشگوئی نہیں اور علماء اسلام جواب تو دیتے تھے مگر سچ بات تو یہ ہے کہ پیشگوئیوں اور خوارق کے منکر کا جواب دینا اس شخص کا کام ہے جو پیشگوئی دکھلا بھی سکے۔ورنہ محض باتوں سے یہ تنازعہ فیصلہ پاتا نہیں۔پس جبکہ پادریوں کی تکذیب انتہا تک پہنچ گئی تو خدا نے حجت محمد یہ پوری کرنے کے لئے مجھے بھیجا۔اب کہاں ہیں پادری تا میرے مقابل پر آدیں۔میں بے وقت نہیں آیا۔میں اس وقت آیا کہ جب اسلام عیسائیوں کے پیروں کے نیچے کچلا گیا۔اے آنکھوں کے اندھو! تمہیں سچائی کا مخالف بننا کس نے سکھلایا ؟ دین تباہ ہو گیا اور بیرونی حملوں اور اندرونی بدعات نے تمام اعضاء دین کے زخمی کر دیئے اور صدی میں سے بھی تئیس برس گذر گئے اور کئی لاکھ مسلمان مرتد ہو کر خدا اور رسول کے دشمن ہو گئے مگر تم کہتے ہو کہ اس وقت کوئی خدا کی