حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 468
۱۱۵۰ ہونا سمجھا جاوے گا۔یہ بات بھی ہم اس واسطے کہتے ہیں کہ احمد مسیح ایک گمنام آدمی ہے اور جب تک بشپ صاحبان اس کو اپنا قائم مقام نہ بناویں قوم پر کچھ اثر نہیں ہو سکتا۔لیکن اب معاملہ بہت صاف کر دیا گیا ہے۔امید ہے کہ بشپ صاحبان پورے غور وفکر کے بعد اس مباہلہ کو منظور کر لیں گے۔مکررا یہ کہ اگر ہر چہار بشپ منظور نہ کریں تو صرف لاہور کے بشپ صاحب کی ہی تحریر کافی سمجھی جائے گی۔والسّلام على من اتبع الهدى خاکسار میرزا غلام احمد مسیح موعود قادیان - ارمئی ۱۹۰۶ء تبلیغ رسالت جلد دہم صفحه ۱۱۲ ۱۱۳۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۷۱ بار دوم ) میرے بچے ہونے کی یہی نشانی ہے جو مجھ سے وہ نشان ظاہر ہوتے ہیں جو انسانی طاقتوں سے برتر ہیں۔اگر حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند و انگلستان توجہ کریں تو میرا خدا قادر ہے کہ ان کی تسلی کے لئے بھی کوئی نشان دکھاوے جو بشارت اور خوشی کا نشان ہو بشرطیکہ نشان دیکھنے کے بعد میرے پیغام کو قبول کر لیں اور میری سفارت جو یسوع مسیح کی طرف سے ہے اس کے موافق ملک میں عملدرآمد کرایا جائے۔مگر نشان خدا کے ارادہ کے موافق ہوگا نہ انسان کے ارادہ کے موافق۔ہاں فوق العادت ہوگا اور عظمت الہی اپنے تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۶) اگر حضور ملکہ معظمہ میرے تصدیق دعوئی کے لئے مجھ سے نشان دیکھنا چاہیں تو میں یقین رکھتا ہوں اندر رکھتا ہوگا۔کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہو کہ وہ نشان ظاہر ہو جائے اور نہ صرف یہی بلکہ دعا کر سکتا ہوں کہ یہ تمام زمانہ عافیت اور صحت سے بسر ہو۔لیکن اگر کوئی نشان ظاہر نہ ہو اور میں جھوٹا نکلوں تو میں اس سزا میں راضی ہوں کہ حضور ملکہ معظمہ کے پائیہ تخت کے آگے پھانسی دیا جاؤں۔یہ سب الحاح اس لئے ہے کہ کاش ہماری محسنہ ملکہ معظمہ کو اس آسمان کے خدا کی طرف خیال آجائے جس سے اس زمانہ میں عیسائی مذہب بے خبر ہے۔تحفہ قیصریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۲۷۶ حاشیہ) اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی یا آریہ یا یہودی یا بر ہمو یا کوئی اور ہے اس کے لئے یہ خوب موقعہ ہے جو میرے مقابل پر کھڑا ہو جائے۔اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تو میں اللہ جلشانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ