حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 467 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 467

۱۱۴۹ حضرت مسیح کے نجات پا گیا ہوں اور وہ نشانیاں نجات کی اور کامل ایمانداری کی جو حضرت مسیح نے مقرر کی تھیں وہ مجھ میں موجود ہیں۔پس ہمیں کیا انکار ہے۔ہم تو نجات ہی چاہتے ہیں۔لیکن زبان کی لستانی کو کوئی قبول نہیں کر سکتا۔میں آپ کی خدمت میں عرض کر چکا ہوں کہ قرآن کا نجات دینا میں نے بچشم خود دیکھ لیا ہے۔اور میں پھر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں بالمقابل اس بات کو دکھلانے کو حاضر ہوں۔لیکن اول آپ دو حرفی مجھے جواب دیں کہ آپ کے مذہب میں کچی نجات معہ اس کی علامات کے پائی جاتی ہے یا نہیں۔اگر پائی جاتی ہے تو دکھلاؤ۔پھر اس کا مقابلہ کرو۔اگر نہیں پائی جاتی تو آپ صرف اتنا کہہ دو کہ ہمارے مذہب میں نجات نہیں پائی جاتی۔پھر میں یکطرفہ ثبوت دینے کے لئے مستعد ہوں۔جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۴۳ تا ۱۴۹) آتھم صاحب ہرگز قسم نہیں کھا ئیں گے۔اگر پادری صاحبان ملامت کرتے کرتے اُن کو ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ میرے مقابل پر قسم کھانے کے لئے ہرگز نہیں آئیں گے کیونکہ وہ دل میں جانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔میری سچائی کے لئے یہ نمایاں دلیل کافی ہے کہ آتھم صاحب میرے مقابل پر میرے مواجہ میں ہر گز قسم نہیں اٹھا ئیں گے۔اگر چہ عیسائی لوگ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اگر وہ قسم کھا لیں تو یہ پیشگوئی بلاشبہ دوسرے پہلو پر پوری ہو جائے گی۔خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔تبلیغ رسالت جلد چہارم صفحہ ۷۰۔مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحه ۵۳۹ بار دوم ) ۲ رمئی ۱۹۰۶ ء کی ڈاک میں مجھے دہلی کے اندھے عیسائی احمد مسیح کا وہ اشتہار ملا تھا جس میں عیسائی مذکور نے اسلام اور عیسائیت کے درمیان آخری فیصلہ کرنے کے واسطے مجھے مباہلہ کے واسطے طلب کیا۔اس کے جواب میں پانچ مئی کے اشتہار میں میں نے اس دعوت کو قبول کیا بدیں شرط کہ لاہور ، کلکتہ ، مدراس اور بمبئی چار مقامات کے بشپ صاحبان اس مباہلہ میں شامل ہوں اور اس شمولیت کے واسطے ان کے لئے تکلیف سفر برداشت کرنے اور کسی ایک جگہ جمع ہونے کی بھی شرط قرار نہیں دی۔کیونکہ میرے نزدیک مباہلہ تحریری بھی ہو سکتا ہے۔آج مجھے خیال آیا ہے کہ اس مباہلہ میں عیسائی صاحبان کو اور بھی سہولت دی جاوے تا کہ ان کا کوئی جھوٹا عذر بھی باقی نہ رہے۔اس واسطے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں مباہلہ کے واسطے خود احمد مسیح نابینا کے بالمقابل ہی طیار ہوں۔بشپ صاحبان اگر پسند نہیں کرتے تو وہ بالمقابل اپنا نام پیش نہ کریں بلکہ اپنی تحریری سند دے کر بذریعہ چھپے ہوئے اشتہار کے اخبار پایونیر یا سول میں صرف یہ شائع کر دیں کہ احمد مسیح کا مغلوب ہونا ہر چہار بشپ صاحبان کا مغلوب