حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 461 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 461

۱۱۴۳ به شرائط قرار داده اشتها ر 9 ستمبر ۱۸۹۴ ء بلا توقف دیا جائے گا۔اگر اب بھی آتھم صاحب باوجود اس قدر انعام کثیر کے قسم کھانے سے منہ پھیر لیں تو تمام دشمن و دوست یاد رکھیں کہ انہوں نے محض عیسائیوں سے خوف کھا کر حق کو چھپایا ہے اور اسلام غالب اور فتحیاب ہے۔ہمارے مخالف یا درکھیں کہ اب بھی آتھم صاحب ہرگز فتم نہیں کھائیں گے۔کیوں نہیں کھائیں گے اپنے جھوٹا ہونے کی وجہ سے اور یہ کہنا کہ شاید ان کو یہ دھڑ کا ہو کہ ایک برس میں مرنا ممکن ہے۔پس ہم کہتے ہیں کہ کون مارے گا ؟ کیا اُن کا خداوند مسیح یا کوئی اور؟ پس جبکہ یہ دو خداؤں کی لڑائی ہے ایک سچا خدا جو ہمارا خدا ہے اور ایک مصنوعی خدا جو عیسائیوں نے بنا لیا ہے تو پھر اگر آتھم صاحب حضرت مسیح کی خدائی اور اقتدار پر ایمان رکھتے ہیں بلکہ آزما بھی چکے ہیں تو پھر اُن کی خدمت میں عرض کر دیں کہ اب اس قطعی فیصلہ کے وقت میں مجھ کو ضرور زندہ رکھیو۔یوں تو موت کی گرفت سے کوئی بھی باہر نہیں۔اگر آتھم صاحب چونسٹھ برس کے ہیں تو عاجز قریباً ساٹھ برس کا ہے۔اور ہم دونوں پر قانون قدرت یکساں مؤثر ہے لیکن اگر اسی طرح قسم کسی راستی کی آزمائش کے لئے ہم کو دی جائے تو ہم ایک برس کیا دس برس تک اپنے زندہ رہنے کی قسم کھا سکتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ دینی بحث کے وقت میں ضرور خدا تعالیٰ ہماری مدد کرے گا۔حضرت یہ تو دو خداؤں کی لڑائی ہے۔اب وہی غالب ہوگا جو سچا خدا ہے۔جبکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے خدا کی ضرور یہ قدرت ظاہر ہوگی کہ اس قسم والے برس میں ہم نہیں مریں گے لیکن اگر آتھم صاحب نے جھوٹی قسم کھالی تو ضرور فوت ہو جائیں گے تو جائے انصاف ہے کہ آتھم صاحب کے خدا پر کیا حادثہ نازل ہوگا کہ وہ ان کو بچانہیں سکے گا اور منجی ہونے سے استعفیٰ دیدے گا۔غرض اب گریز کی کوئی وجہ نہیں۔یا تو مسیح کو قادر خدا کہنا چھوڑیں اور یا قسم کھا لیں۔ہاں اگر عام مجلس میں یہ اقرار کر دیں کہ ان کے مسیح ابن اللہ کو برس تک زندہ رکھنے کی تو قدرت نہیں مگر برس کے تیسرے حصہ یا تین دن تک البتہ قدرت ہے اور اس مدت تک اپنے پرستار کو زندہ رکھ سکتا ہے تو ہم اس اقرار کے بعد چار مہینہ یا تین ہی دن تسلیم کر لیں گے۔تبلیغ رسالت جلد سوم صفحہ ۱۳۰ تا ۱۳۶ مجموعه اشتہارات جلد اوّل صفحه ۴۱۰ تا ۴۱۴ بار دوم ) از طرف عبدالله الاحد احمد عافاه الله و اید۔آتھم صاحب کو معلوم ہو کہ میں نے آپ کا وہ خط پڑھا جو آپ نے نور افشاں ۲۱ ستمبر ۱۸۹۴ء کے صفحہ ۱۰ میں چھپوایا ہے مگر افسوس کہ آپ اس خط میں دونوں