حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 460
۱۱۴۲ صفائی سے میعاد کے اندر پوری ہوگئی کہ ایک منصف اور دانا کو بجز اس کے ماننے اور قبول کرنے کے کچھ بن نہیں پڑتا۔اگر عیسائی صاحبان اب بھی جھگڑیں اور اپنی مکارانہ کارروائیوں کو کچھ چیز سمجھیں یا کوئی اور شخص اس میں شک کرے تو اس بات کے تصفیہ کے لئے کہ فتح کس کو ہوئی۔آیا اہل اسلام کو جیسا کہ درحقیقت ہے یا عیسائیوں کو جیسا کہ وہ ظلم کے راہ سے خیال کرتے ہیں تو میں ان کی پردہ دری کے لئے مباہلہ کے لئے طیار ہوں۔اگر وہ درونگوئی اور چالاکی سے باز نہ آئیں تو مباہلہ اس طور پر ہوگا کہ ایک تاریخ مقرر ہو کر ہم فریقین ایک میدان میں حاضر ہوں اور مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کھڑے ہو کر تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رعب ایک طرفہ العین کے لئے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کو نا حق پر سمجھتا رہا اور سمجھتا ہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسی کی ابنیت اور الوہیت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتا ہوں اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پروسٹنٹ کے عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلاف واقعہ کہا ہے اور حقیت کو چھپایا ہے تو اے خدائے قادر مجھ پر ایک برس میں عذاب موت نازل کر۔اس دعا پر ہم آمین کہیں گے اور اگر دعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو بطور تاوان کے دیں گے۔تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۹۶ تا ۱۰۲۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۳۸۵ تا ۳۹۰ بار دوم ) ہم مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو یہ تکلیف نہیں دیتے ہیں کہ وہ امرتسر میں ہمارے مکان پر آویں بلکہ ہم ان کے بلانے کے بعد معہ ہزار روپیہ کے ان کے مکان پر آویں گے۔اور ان کو کسی قدم رنجہ کی تکلیف نہ دیں گے۔ہم ان کو اتنی بھی تکلیف نہیں دیں گے کہ اس اقرار کے لئے کھڑے ہو جائیں یا بیٹھ جائیں بلکہ وہ بخوشی اپنے بستر پر ہی لیٹے رہیں اور تین مرتبہ وہ اقرار کر دیں جو لکھ دیا گیا ہے۔تبلیغ رسالت جلد سوم صفحه ۱۲۴، ۱۲۵- مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۴۰۵، ۴۰۶ بار دوم ) اگر اب بھی بعض متعصب یا ناقص الفہم لوگ شک رکھتے ہیں تو اب ہم یہ دوسرا اشتہار دو ہزار روپیہ انعام کی شرط سے نکالتے ہیں۔اگر آتھم صاحب جلسہ عام میں تین مرتبہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ میں نے پیشگوئی کی مدت کے اندر عظمت اسلامی کو اپنے دل پر جگہ ہونے نہیں دی اور برابر دشمن اسلام رہا اور حضرت عیسی کی ابنیت اور الوہیت اور کفارہ پر مضبوط ایمان رکھا تو اسی وقت نقد دو ہزار روپیران کو