حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 458
۱۱۴۰ ہے کہ روز کا جھگڑا طے کرنے کے لئے ساتھ ہی اسلام اور عیسائیت کا مباہلہ بھی میرے ساتھ کرلیں۔اگر عیسائی لعنت کے لفظ سے متنفر ہیں تو اس لفظ کو جانے دیں بلکہ دونوں فریق یہ دعا کریں کہ یا اللہ العالمین اسلام تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ تثلیث کی تعلیم سراسر جھوٹی اور شیطانی طریق ہے اور مریم کا بیٹا ہرگز خدا نہیں تھا بلکہ ایک انسان تھا اور نبی اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے بچے پیغمبر اور رسول اور خاتم الانبیاء تھے اور قرآن خدا کا پاک کلام ہے جو ہر ایک غلطی اور ضلالت سے پاک ہے اور عیسائی اس تعلیم کو پیش کرتے ہیں کہ مریم کا بیٹا یسوع در حقیقت خدا تھا۔وہی تھا جس نے زمین و آسمان پیدا کیا۔اسی کے خون سے دنیا کی نجات ہوگئی اور خدا تین اقنوم ہیں۔باپ، بیٹا ، روح القدس اور یسوع تینوں کا مجموعہ کامل خدا ہے اب اے قادر ان دونوں گروہ میں اس طرح فیصلہ کر کہ جو ہم دوفریق میں سے جو اس وقت مباہلہ کے میدان میں حاضر ہیں۔جو فریق جھوٹے اعتقاد کا پابند ہے اس کو ایک سال کے اندر بڑے عذاب سے ہلاک کر کیونکہ تمام دنیا کی نجات کے لئے چند آدمی کا مرنا بہتر ہے۔غرض ہر ایک فریق ہم میں سے اور عیسائیوں میں سے دعا کرے اس طرح پر کہ اول ایک فریق یہ دعا کرے اور دوسرا فریق آمین کہے اور پھر دوسرا فریق دعا کرے اور پہلا فریق آمین کہے۔اور پھر ایک سال تک خدا کے حکم کے منتظر رہیں اور میں اس وقت اقرار صالح شرعی کرتا ہوں کہ ان دونوں مباہلوں میں دو ہزار روپیہ ان عیسائیوں کے لئے جمع کرادوں گا جو میرے مقابل پر مباہلہ کے میدان میں آویں گے۔یہ کام نہایت ضروری ہے۔جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ زندہ اور قادر خدا ہمارے ساتھ ہے، عیسائی بھی کہتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔اب اس مباہلہ سے بڑا فائدہ ہوگا کہ پبلک کو معلوم ہو جائے گا کہ کس قوم کے ساتھ خدا ہے اور اگر عیسائی قبول نہ کریں تو لعنت کا ذخیرہ ان کے لئے آسمان پر جمع ہوگا اور لوگ سمجھ جا ئیں گے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ہمارے مخاطب ڈاکٹر کلارک، پادری عماد الدین، حسام الدین ایڈیٹر کشف الحقائق منشی صفدر علی بھنڈارہ ، پادری فتح مسیح اور ہر ایک ایسا شخص جو پادری اور معاند اسلام ہو درخواست کرے۔یہ طریق فیصلہ بہتر ہے۔تا دنیا روز کے جھگڑوں سے نجات پاوے۔تا سیاہ روئے شود ہر کہ در دفش باشد۔والسلام على من اتبع الهدى المشتهر مرزا غلام احمد از قادیان انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۳)