حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 457
۱۱۳۹ پادری صاحبوں کا یہ فرض ہو گا کہ توریت اور انجیل اور اپنی تمام کتابوں میں سے سورہ فاتحہ کے مقابل پر حقائق اور معارف اور خواص کلام الوہیت جس سے مراد فوق العادت عجائبات ہیں جن کا بشری کلام میں پایا جانا ممکن نہیں پیش کر کے دکھلائیں اور اگر وہ ایسا مقابلہ کریں اور تین منصف غیر قوموں میں سے کہدیں کہ وہ لطائف اور معارف اور خواص کلام الوہیت جو سورہ فاتحہ میں ثابت ہوئے ہیں وہ ان کی پیش کردہ عبارتوں میں بھی ثابت ہیں تو ہم پانسو روپیہ جو پہلے سے ان کے لئے ان کی اطمینان کی جگہ پر جمع کرایا جائے گا دے دیں گے اب کیا کسی پادری کا حوصلہ ہے جو ایسا مقابلہ کرے؟ سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۶۰، ۳۶۱) انجیل کے کلمات سے یسوع کی خدائی ہرگز ثابت نہیں ہوسکتی۔۔اگر ایسے کلمات سے خدائی ثابت ہو سکتی ہے تو یہ میرے الہامات یسوع کے الہامات سے بہت زیادہ میری خدائی پر دلالت کرتے ہیں اور اگر خود پادری صاحبان سوچ نہیں سکتے تو کسی دوسری قوم کے تین منصف مقرر کر کے میرے الہامات اور انجیل میں سے یسوع کے وہ کلمات جن سے اس کی خدائی سمجھی جاتی ہے۔ان منصفوں کے حوالہ کریں۔پھر اگر منصف لوگ پادریوں کے حق میں ڈگری دیں اور حلفاً یہ بیان کر دیں کہ یسوع کے کلمات میں سے یسوع کی خدائی زیادہ تر صفائی سے ثابت ہوسکتی ہے۔تو میں تاوان کے طور پر ہزار روپیہ ان کو دے سکتا ہوں اور میں منصفوں سے یہ چاہتا ہوں کہ اپنی شہادت سے پہلے یہ قسم کھا لیویں کہ ہمیں خدا تعالیٰ کی قسم ہے کہ ہمارا یہ بیان صحیح ہے اور اگر صحیح نہیں ہے تو خدا تعالیٰ ایک سال تک ہم پر وہ عذاب نازل کرے جس سے ہماری تباہی اور ذلت اور بربادی ہو جائے اور میں خوب جانتا ہوں کہ پادری صاحبان ہرگز اس طریق فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے۔(کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۱۰۶) میرا یہ بھی دعوی ہے کہ یسوع کی پیشگوئیوں کی نسبت میری پیشگوئیاں اور میرے نشان زیادہ ثابت ہیں۔اگر کوئی پادری میری پیشگوئیوں اور میرے نشانوں کی نسبت یسوع کی پیشگوئیاں اور نشان ثبوت کے رو سے قوی تر دکھلا سکے تو میں اس کو ایک ہزار روپیہ نقد دوں گا۔میرزا غلام احمد تبلیغ رسالت جلد ششم صفحہ ۱۷۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۱۴ بار دوم ) یہ بھی مناسب دیکھتا ہوں کہ چونکہ عیسائیوں کا مذہبی عناد بہت بڑھ گیا ہے اس لئے نہایت ضروری