حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 454
اس اشتہار میں پادری وائٹ بریخٹ صاحب کہ جو اس علاقہ کے ایک معزز یورپین پادری ہیں ہمارے بالتخصیص مخاطب ہیں۔اور ہم پادری صاحب کو یہ بھی اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ صاف طور پر جلسہ عام میں اقرار کر دیں کہ یہ الہامی طاقت عیسائی گروہ سے مسلوب ہے تو ہم ان سے کوئی پیشگوئی بالمقابل طلب نہیں کریں گے۔بلکہ حسب درخواست ان کی ایک جلسہ مقرر کر کے فقط اپنی طرف سے ایسی الہامی پیشگوئیاں پیش از وقوع پیش کریں گے جن کی نسبت ان کو کسی طور کا شک وشبہ کرنے کی گنجائش نہیں ہوگی اور اگر ہماری طرف سے اس جلسہ میں کوئی ایسی قطعی ویقینی پیشگوئی پیش نہ ہوئی کہ جو عام ہندوؤں اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی نظر میں انسانی طاقتوں سے بالاتر متصور ہو تو ہم اسی جلسہ میں دوسور و پیہ نقد پادری صاحب موصوف کو بطور ہرجانہ یا تاوان تکلیف دہی کے دیدیں گے۔چاہیں تو وہ دوسو روپیہ کسی معزز ہندو صاحب کے پاس پہلے ہی جمع کرا کر اپنی تسلی کرا لیں لیکن اگر پادری صاحب نے خود تسلیم کر لیا کہ حقیقت میں یہ پیشگوئی انسانی طاقتوں سے بالا تر ہے تو پھر ان پر واجب و لازم ہوگا کہ اس کا جھوٹ یا سچ پر کھنے کے لئے سیدھے کھڑے ہو جائیں اور اخبار نورافشاں میں جوان کی مذہبی اخبار ہے اس پیشگوئی کو درج کرا کر ساتھ اس کے اپنا اقرار بھی چھپوا ئیں کہ میں نے اس پیشگوئی کو من کل الوجوہ گوانسانی طاقتوں سے بالا تر قبول کر لیا اسی وجہ سے تسلیم کر لیا ہے کہ اگر یہ پیشگوئی سچی ہے تو بلا شبہ قبولیت اور محبوبیت الہی کے چشمہ سے نکلی ہے نہ کسی اور گندے چشمہ سے جو انکل اور اندازہ وغیرہ ہے اور اگر بالآخر اس پیشگوئی کا مضمون صحیح اور بچ نکلا تو میں بلا توقف مسلمان ہو جاؤں گا کیونکہ جو پیشگوئی محبوبیت کے چشمہ سے نکلی ہے وہ اس دین کی سچائی کو ثابت کرنے والی ہے جس دین کی پیروی سے یہ مرتبہ محبوبیت کا ملتا ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ محبوبیت کو نجات یافتہ ہونا ایک امر لازمی ہے۔اور اگر پیشگوئی کا مضمون صحیح نہ نکلا یعنی بالآخر جھوٹی نکلے وہ تو دوسو روپیہ جو جمع کرایا گیا ہے پادری صاحب کو دیا جائے گا۔تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ ۱۰۶ تا ۱۰۸ - مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۲۹ بار دوم )