حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 453
۱۱۳۵ اشتہار سے شائع کر دوں گا کہ عیسائی فتحیاب ہوئے اور میں مغلوب ہوا۔اور یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اس اشتہار میں کوئی بھی شرط نہ ہو گی۔لفظا نہ معناً۔اور ربانی فیصلہ کے لئے طریق یہ ہوگا کہ میرے مقابل پر ایک معزز پادری صاحب جو پادری صاحبان مندرجہ ذیل میں سے منتخب کئے جائیں میدان مقابلہ کے لئے جو تراضی طرفین سے مقرر کیا جائے طیار ہوں پھر بعد اس کے ہم دونوں معہ اپنی اپنی جماعتوں کے میدان مقررہ میں حاضر ہو جائیں اور خدائے تعالیٰ سے دعا کے ساتھ یہ فیصلہ چاہیں کہ ہم دونوں میں سے جو شخص درحقیقت خدا تعالیٰ کی نظر میں کا ذب اور مور دغضب ہے۔خدا تعالیٰ ایک سال میں اس کاذب پر وہ قہر نازل کرے جو اپنی غیرت کے رو سے ہمیشہ کا ذب اور مکذب قوموں پر کیا کرتا ہے جیسا کہ اس نے فرعون پر کیا۔نمرود پر کیا اور نوح کی قوم پر کیا اور یہود پر کیا۔حضرات پادری صاحبان یہ بات یاد رکھیں کہ اس باہمی دعا میں کسی خاص فریق پر نہ لعنت ہے نہ بد دعا ہے بلکہ اس جھوٹے کو سزا دلانے کی غرض سے ہے جو اپنے جھوٹھ کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ایک جہان کے زندہ ہونے کے لئے ایک کا مرنا بہتر ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۸ تا ۴۱) پادری وائٹ بر سخٹ صاحب پر اتمام حجت اس اشتہار کے جاری کرنے سے یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی معزز یورپین عیسائی صاحب ملهم ہونے کا دعوی کرتے ہوں تو انہیں بصد رغبت ہماری طرف سے اجازت ہے کہ بمقام بٹالہ جہاں آخر رمضان تک انشاء اللہ ہم رہیں گے کوئی جلسہ مقرر کر کے ہمارے مقابل پر اپنی الہامی پیشگوئیاں پیش کریں بشرطیکہ فتح مسیح کی طرح اپنی دروغگوئی کا اقرار کر کے میدان مقابلہ سے بھا گنا نہ چاہیں اور نیز ☆ میاں فتح مسیح عیسائی واعظ نے دعوی کیا تھا کہ مجھے بھی الہام ہوتا ہے اور میں بھی پیش از وقوع الهامی پیشگوئیاں بالمقابل بتلا سکتا ہوں چنانچہ اس دعوئی کے پر کھنے کے لئے ۲۱ مئی ۱۸۸۸ء کو بروز دوشنبہ اس عاجز کے مکان فرودگاہ پر ایک بھارا جلسہ ہوا اور بہت سے مسلمان اور ہندو معزز اور رئیس شہر کے رونق افروز جلسہ ہوئے اور سب کو اس بات کے دیکھنے کا شوق تھا کہ کونسی پیشگوئیاں بالمقابل پیش کی جاتی ہیں۔آخر دس بجے کے بعد میاں فتح مسیح معہ چند دوسرے عیسائیوں کے جلسہ میں تشریف لائے اور بجائے اس کے کہ پیشگوئیاں پیش کرتے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ میری طرف سے دعوئی الہام نہیں ہے اور جو کچھ میرے منہ سے نکلا تھا میں نے یونہی فریق ثانی کے دعوے کے مقابل پر ایک دعوی کر دیا تھا۔تبلیغ رسالت جلد اول صفحه ۱۰۶،۱۰۵ - مجموعه اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۱۲۸ بار دوم )