حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 452
۱۱۳۴ اس حملہ کی مدافعت میں اس پر لازم ہو گا کہ وہ بھی ایک مستقل رسالہ شائع کرے اور پھر دونوں رسالوں کے چھپنے کے بعد کسی ثالث کی رائے پر یا خود فریق مخالف کے حلف اٹھانے پر فیصلہ ہو گا۔جس طرح وہ راضی ہو جائے لیکن شرط یہ ہے کہ فریق مخالف نامی علماء میں سے ہو اور اپنے مذہب کی کتاب میں مادہ علمی بھی رکھتا ہو اور بمقابل ہمارے حوالہ اور بیان کے اپنا بیان بھی بحوالہ اپنی کتاب کے تحریر کر سکتا ہوتا ناحق ہماری اوقات کو ضائع نہ کرے۔بالآخر واضح رہے کہ اس اشتہار کے جواب میں ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء سے تین ماہ تک کسی پنڈت یا پادری جواب دہندہ کا انتظار کیا جائے گا اور اگر اس عرصہ میں علماء آریہ وغیرہ خاموش رہے تو انہیں کی خاموشی ان پر حجت ہو گی۔(اشتہار مفید الا خیار مسلکہ سرمہ چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۳۱۲ تا ۳۱۴) اس اشتہار کی تحریر سے یہ غرض ہے کہ ہم نے بڑے لمبے تجربے سے یہ آزما لیا ہے کہ یہ لوگ بار بار ملزم اور لا جواب ہو کر پھر بھی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں نہایت ناپاک اور رنجدہ تھیٹر نکالتے ہیں اور نہایت بُری تصویروں میں اس پاک وجود کو دکھلاتے ہیں۔اب ایسے کذابوں سے زبانی مباحثات سے کیونکر فیصلہ ہو۔ہم جھوٹے کو دندان شکن جواب سے ملزم تو کر سکتے ہیں مگر اس کا منہ کیونکر بند کریں۔اس کی پلید زبان پر کون سی تھیلی چڑھاویں؟ اس کے گالیاں دینے والے منہ پر کونسا قفل لگاویں؟ کیا کریں؟ ان ظالم پادریوں نے لاکھوں گالیاں ہمارے نبی کریم کو دے کر ہمارے دلوں کو زخمی کر دیا۔۔پس یہ روز افزوں جھگڑے کیونکر فیصلہ پاویں۔مباحثات کے نیک نتیجہ سے تو نو میدی ہو چکی بلکہ جیسے جیسے مباحثات بڑھتے جاتے ہیں۔ویسے ہی کینے بھی ساتھ ساتھ ترقی پکڑتے جاتے ہیں سو اس نومیدی کے وقت میں میرے نزدیک ایک نہایت سهل و آسان طریق فیصلہ ہے۔اگر پادری صاحبان قبول کر لیں اور وہ یہ ہے کہ اس بحث کا جو حد سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔خدا تعالیٰ سے فیصلہ کرایا جائے۔اول مجھے یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ ایسا خدائی فیصلہ کرانے کے لئے سب سے زیادہ مجھے جوش ہے اور میری دلی مراد ہے کہ اس طریق سے یہ روز کا جھگڑا انفصال پا جائے۔اگر میری تائید میں خدا کا فیصلہ نہ ہو تو میں اپنی گل املاک منقولہ و غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کی قیمت سے کم نہیں ہوں گی عیسائیوں کو دے دوں گا اور بطور پیشگی تین ہزار روپیہ تک ان کے پاس جمع بھی کر سکتا ہوں۔اس قدر مال کا میرے ہاتھ سے نکل جانا میرے لئے کافی سزا ہوگی۔علاوہ اس کے یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنے دستخطی