حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 451
لیکن محل اعتراض نہیں۔محض سادہ لوحی اور کور باطنی اور قلت تدبر کی وجہ سے ان کو جائے اعتراض سمجھ لیا ہے اور یا بعض ایسے امور ہیں کہ کسی قدر تو سچ ہیں جو ایک ذرہ جائے اعتراضات نہیں ہو سکتی اور باقی سب بہتان اور افترا ہیں جو ان کے ساتھ ملائے گئے ہیں۔بعض آریہ ایسے بھی ہیں کہ وہ قرآن شریف کا ترجمہ کسی جگہ سے ادھورا سا دیکھ کر یا کوئی قصہ بے سروپا کسی جاہل یا مخالف سے سن کر جھٹ پٹ اس کو بنائے اعتراض قرار دے دیتے ہیں۔سواسی خیال سے یہ اشتہار جاری کیا جاتا ہے اور ظاہر کیا جاتا ہے کہ جس قدر اصول اور تعلیمیں قرآن شریف کی ہیں وہ سراسر حکمت اور معرفت اور سچائی سے بھری ہوئی ہیں اور کوئی بات ان میں ایک ذرہ مواخذہ کے لائق نہیں اور چونکہ ہر ایک مذہب کے اصولوں اور تعلیموں میں صد با جزئیات ہوتی ہیں اور ان سب کی کیفیت کا معرض بحث میں لانا ایک بڑی مہلت کو چاہتا ہے۔اس لئے ہم اس بارہ میں قرآن شریف کے اصولوں کے منکرین کو ایک نیک صلاح دیتے ہیں کہ اگر ان کو اصول اور تعلیمات قرآنی پر اعتراض ہو تو مناسب ہے کہ وہ اوّل بطور خود خوب سوچ کر دو تین ایسے بڑے سے بڑے اعتراض بحوالہ آیات قرآنی پیش کریں جو ان کی دانست میں سب اعتراضات سے ایسی نسبت رکھتے ہوں جو ایک پہاڑ کو ذرہ سے نسبت ہوتی ہے یعنی ان کے سب اعتراضوں سے ان کی نظر میں اقویٰ واشد اور انتہائی درجہ کے ہوں جن پر ان کی نکتہ چینی کی پر زور نگاہیں ختم ہو گئی ہوں اور نہایت شدت سے دوڑ دوڑ کر انہیں پر جا ٹھہری ہوں سو ایسے دو یا تین اعتراض بطور نمونہ پیش کر کے حقیقت حال کو آزما لینا چاہیئے کہ اس سے تمام اعتراضات کا بآسانی فیصلہ ہو جائے گا کیونکہ اگر بڑے اعتراض بعد تحقیق نا چیز نکلے تو پھر چھوٹے اعتراض ساتھ ہی نابود ہو جائیں گے اور اگر ہم ان کا کافی و شافی جواب دینے سے قاصر رہے اور کم سے کم یہ ثابت نہ کر دکھایا کہ جن اصولوں اور تعلیموں کو فریق مخالف نے بمقابلہ ان اصولوں اور تعلیموں کے اختیار کر رکھا ہے وہ ان کے مقابل پر نہایت درجہ رذیل اور ناقص اور دور از صداقت خیالات ہیں تو ایسی حالت میں فریق مخالف کو در حالت مغلوب ہونے کے فی اعتراض پچاس روپیہ بطور تاوان دیا جائے گا لیکن اگر فریق مخالف انجام کار جھوٹا نکلا اور وہ تمام خوبیاں جو ہم اپنے ان اصولوں یا تعلیموں میں ثابت کر کے دکھلا دیں بمقابل ان کے وہ اپنے اصولوں میں ثابت نہ کر سکا تو پھر یاد رکھنا چاہیئے کہ اسے بلا توقف مسلمان ہونا پڑے گا اور اسلام لانے کے لئے اول حلف اٹھا کر اسی عہد کا اقرار کرنا ہوگا اور پھر بعد میں ہم اس کے اعتراضات کا جواب ایک رسالہ مستقلہ میں شائع کرا دیں گے اور جو اس کے بالمقابل اصولوں پر ہماری طرف سے حملہ ہو گا