حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 448

کھاویں کہ در حقیقت باوا نانک دین اسلام سے بیزار تھے اور پیغمبر اسلام علیہ السلام کو برا سمجھتے تھے اور نیز در حقیقت پیغمبر اسلام نعوذ باللہ فاسق اور بدکار تھے اور خدا کے سچے نبی نہیں تھے اور اگر یہ دونوں باتیں خلاف واقعہ ہیں تو اے قادر کرتار مجھے ایک سال تک اس گستاخی کی سخت سزا دے اور ہم آپ کی قسم پر پانسور و پیہ ایک جگہ پر جہاں آپ کی اطمینان ہو جمع کرا دیتے ہیں۔پس اگر آپ در حقیقت سچے ہوں گے تو سال کے عرصہ تک آپ کے ایک بال کا نقصان بھی نہیں ہو گا بلکہ مفت پانسور و پیہ آپ کو ملے گا اور ہماری ذلت اور روسیاہی ہوگی اور اگر آپ پر کوئی عذاب نازل ہو گیا تو تمام سکھ صاحبان درست ہو جائیں گے۔تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ۹۲ تا ۹۷۔مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۷ ۸ تا ۹۰ بار دوم ) میں حلفاً کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ مجھے کسی قوم سے دشمنی نہیں۔ہاں جہاں تک ممکن ہے۔ان کے عقائد کی اصلاح چاہتا ہوں اور اگر کوئی گالیاں دے تو ہماراشکوہ خدا کی جناب میں ہے نہ کسی اور عدالت میں۔اور بائیں ہمہ نوع انسان کی ہمدردی ہمارا حق ہے۔ہم اس وقت کیونکر اور کن الفاظ سے آریہ صاحبوں کے دلوں کو تسلی دیں کہ بد معاشی کی چالیں ہمارا طریق نہیں ہیں۔ایک انسان کی جان جانے سے تو ہم دردمند ہیں اور خدا کی ایک پیشگوئی پوری ہونے سے ہم خوش بھی ہیں۔کیوں خوش ہیں؟ صرف قوموں کی بھلائی کے لئے۔کاش وہ سوچیں اور سمجھیں کہ اس اعلیٰ درجہ کی صفائی کے ساتھ کئی برس پہلے خبر دینا یہ انسان کا کام نہیں ہے۔ہمارے دل کی اس وقت عجیب حالت ہے درد بھی ہے اور خوشی بھی۔درد اس لئے کہ اگر لیکھر ام رجوع کرتا زیادہ نہیں تو اتنا ہی کرتا کہ وہ بد زبانیوں سے باز آجاتا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ میں اس کے لئے دعا کرتا اور میں امید رکھتا تھا کہ اگر وہ ٹکڑے ٹکڑے بھی کیا جاتا تب بھی زندہ ہو جاتا۔وہ خدا جس کو میں جانتا ہوں۔اس سے کوئی بات انہونی نہیں اور خوشی اس بات کی ہے کہ پیشگوئی نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔اور اگر اب بھی کسی شک کرنے والے کا شک دور نہیں ہو سکتا اور مجھے اس قتل کی سازش میں شریک سمجھتا ہے جیسا کہ ہندو اخباروں نے ظاہر کیا ہے تو میں ایک نیک صلاح دیتا ہوں کہ جس سے سارا قصہ فیصلہ ہو جائے اور وہ یہ ہے کہ ایسا شخص میرے سامنے قسم کھاوے جس کے الفاظ یہ ہوں کہ ” میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شخص سازش قتل میں شریک یا اس کے حکم سے واقعہ قتل ہوا ہے پس اگر یہ صیح نہیں ہے تو اے قادر خدا ایک برس کے اندر مجھ پر وہ عذاب نازل کر جو ہیبت ناک عذاب ہو مگر کسی انسان کے ہاتھوں سے نہ ہو اور نہ انسان کے منصوبوں کا اس میں کچھ دخل متصور ہو سکے۔پس اگر یہ شخص ایک برس