حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 437
1119 میں اس میں صاحب تجربہ ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ بجز اسلام تمام مذہب مُردے اُن کے خدائر دے اور خود وہ تمام پیر ومر دے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق ہو جانا بجز اسلام قبول کرنے کے ہرگز ممکن نہیں ، ہر گز ممکن نہیں۔اے نادانو تمہیں مُردہ پرستی میں کیا مزہ ہے اور مردار کھانے میں کیا لذت !!! آؤ میں تمہیں بتلاؤں کہ زندہ خدا کہاں ہے اور کس قوم کے ساتھ ہے۔وہ اسلام کے ساتھ ہے۔اسلام اس وقت موسیٰ کا طور ہے جہاں خدا بول رہا ہے۔وہ خدا جو نبیوں کے ساتھ کلام کرتا تھا اور پھر چپ ہو گیا آج وہ ایک مسلمان کے دل میں کلام کر رہا ہے۔کیا تم میں سے کسی کو شوق نہیں؟ کہ اس بات کو پر کھے۔پھر اگر حق کو پاوے تو قبول کر لیوے۔تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟ کیا ایک مُردہ کفن میں لپٹا ہوا پھر کیا ہے؟ کیا ایک مشت خاک۔کیا یہ مُردہ خدا ہو سکتا ہے؟ کیا یہ تمہیں کچھ جواب دے سکتا ہے؟ ذرا آؤ ! ہاں ! لعنت ہے تم پر اگر نہ آؤ اور اس سڑے گلے مُردہ کا میرے خدا کے ساتھ مقابلہ نہ کرو۔دیکھو میں تمہیں کہتا ہوں کہ چالیس دن نہیں گزریں گے کہ وہ بعض آسمانی نشانوں سے تمہیں شرمندہ کرے گا۔ناپاک ہیں وہ دل جو بچے ارادہ سے نہیں آزماتے اور پھر انکار کرتے ہیں اور پلید ہیں وہ طبیعتیں جو شرارت کی طرف جاتی ہیں نہ طلب حق کی طرف۔او میرے مخالف مولویو! اگر تم میں شک ہو تو آؤ ، چند روز میری صحبت میں رہو، اگر خدا کے نشان نہ دیکھو تو مجھے پکڑو اور جس طرح چاہو تکذیب سے پیش آؤ۔میں اتمام حجت کر چکا۔اب جب تک تم اس حجت کو نہ تو ڑ لو تمہارے پاس کوئی جواب نہیں۔خدا کے نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں۔کیا تم میں سے کوئی نہیں جو سچا دل لے کر میرے پاس آوے۔کیا ایک بھی نہیں؟ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔وَالسّلام على من اتبع الهدى (ضمیمہ انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ا اصفحہ ۳۴۵ تا ۳۴۷) بعد ما وجب گذارش ضروری یہ ہے کہ عاجز مولف براہین احمدیہ حضرت قادر مطلق جل شانہ کی طرف سے مامور ہوا ہے کہ نبی ناصری اسرائیلی (مسیح) کی طرز پر کمال مسکینی فروتنی و غربت و تذلل و تواضع سے اصلاح خلق کے لئے کوشش کرے اور ان لوگوں کو جو راہ راست سے بے خبر ہیں صراط مستقیم (جس پر چلنے سے حقیقی نجات حاصل ہوتی ہے اور اسی عالم میں بہشتی زندگی کے آثار اور قبولیت اور محبوبیت کے انوار