حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 428

111+ نہیں کر سکتے تو آؤ اس بارہ میں اس مضمون کی قسم ہی کھاؤ کہ قرآن کریم میں مسیح کی وفات کا کچھ ذکر نہیں بلکہ حیات کا ذکر ہے یا کوئی اور حدیث صحیح مرفوع متصل موجود ہے جس نے توفی کے لفظ کی کوئی مخالفانہ تفسیر کر کے مسیح کی حیات جسمانی پر گواہی دی ہے۔پھر اگر ایک سال تک خدائے تعالی کی طرف سے اس بات کا کوئی کھلا نشان ظاہر نہ ہوا کہ آپ نے جھوٹی قسم کھائی ہے یعنی کسی وبال عظیم میں آپ مبتلا نہ ہوئے تب بلا توقف میں آپ کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا۔مگر افسوس کہ ہر چند بار بار میاں صاحب سے یہ درخواست کی گئی لیکن نہ انہوں نے بحث کی اور نہ قسم کھائی اور نہ کافر کافر کہنے سے باز آئے۔۔اور اسی مطلب کے لئے میں حرج اور خرچ اُٹھا کر ایک ماہ برابر دہلی میں رہا تو پھر ایک حقیقت رس آدمی سمجھ سکتا ہے کہ اگر میاں صاحب بحث کے لئے سیدھے دل سے مستعد ہوتے تو میں کیوں ان سے بحث نہ کرتا۔نقل مشہور ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں۔میں اسی طرح بحث وفات مسیح کے لئے اب پھر حاضر ہوں جیسا کہ پہلے حاضر تھا۔اگر میاں صاحب لاہور میں آکر بحث منظور کریں تو میں اُن کی خاص ذات کا کرایہ آنے جانے کا خود دے دوں گا اگر آنے پر راضی ہوں تو میں ان کی تحریر پر بلا توقف کرایہ پہلے روانہ کر سکتا ہوں اگر وہ حاضر ہونے سے روگردان ہیں تو میں یہ بھی اجازت دیتا ہوں کہ وہ اپنی جگہ پر ہی بذریعہ تحریرات اظہار حق کے لئے بحث کر لیں۔غرض میں ہر طرح سے حاضر ہوں اور میاں صاحب کے جواب باصواب کا منتظر ہوں مگر یہ پیشگوئی بھی یاد رکھو کہ وہ ہرگز بحث نہیں کریں گے اور اگر کریں گے تو ایسے رسوا ہوں گے کہ منہ دکھانے کی جگہ نہیں رہے گی۔۔آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۱۶،۳۱۵) تمام مسلمانوں پر واضح ہو کہ کمال صفائی سے قرآن کریم اور حدیث رسول اللہ علیہ سے ثابت ہو گیا ہے کہ در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم علیه السّلام بر طبق آیت فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ لا زمین پر ہی اپنی جسمانی زندگی کے دن بسر کر کے فوت ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی سولہ آیتوں اور بہت سی حدیثوں بخاری اور مسلم اور دیگر صحاح سے ثابت ہے کہ فوت شدہ لوگ پھر آباد ہونے اور بسنے کے لئے دنیا میں بھیجے نہیں جاتے اور نہ حقیقی اور واقعی طور پر دو موتیں کسی پر واقع ہوتی ہیں اور نہ قرآن کریم میں واپس آنے والوں کے لئے کوئی قانون وراثت موجود ہے۔بایں ہمہ بعض علماء وقت کو اس بات پر سخت غلو ہے کہ مسیح ابن مریم فوت نہیں ہوا۔بلکہ زندہ ہی آسمان کی طرف اُٹھایا گیا اور حیات جسمانی الاعراف: ٢٦