حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 423 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 423

۱۱۰۵ دوستوں کے واپس آنے پر ۸ نومبر ۱۹۰۲ء کو اس قصیدہ کا بنانا شروع کیا گیا اور ۱۲ نومبر ۱۹۰۲ء کو مع اس اردو عبارت کے ختم ہو چکا تھا کیونکہ میں یقین دل سے جانتا ہوں کہ خدا کی تائید کا یہ ایک بڑا نشان ہے تا وہ مخالف کو شرمندہ اور لاجواب کرے۔اس لئے میں اس نشان کو دس ہزار روپیہ کے انعام کے ساتھ مولوی ثناء اللہ اور اس کے مددگاروں کے سامنے پیش کرتا ہوں کہ اگر وہ اسی میعاد میں یعنے پانچ دن میں ایسا قصیده مع اسی قدر اردو مضمون کے جواب کے جو وہ بھی ایک نشان ہے بنا کر شائع کر دیں تو میں بلا تو قف دس ہزار روپیہ ان کو دے دوں گا۔چھپوانے کے لئے ایک ہفتہ کی اُن کو اور مہلت دیتا ہوں۔یہ کل باراں دن ہیں اور دو دن ڈاک کے لئے بھی ان کا حق ہے۔پس اگر اس تاریخ سے کہ یہ قصیدہ اور اردو عبارت ان کے پاس پہنچے چوداں دن تک اسی قدر اشعار بلیغ فصیح جو اس مقدار اور تعداد سے کم نہ ہوں شائع کر دیں تو میں دس ہزار روپیہ ان کو انعام دے دوں گا۔اُن کو اختیار ہو گا کہ مولوی محمد حسین صاحب سے مدد لیں یا کسی اور صاحب سے مدد لے لیں اور نیز اس وجہ سے بھی ان کو کوشش کرنی چاہیے کہ میرے اشتہار میں پیشگوئی کے طور پر خبر دی گئی ہے کہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ ء تک کوئی خارق عادت نشان ظاہر ہو گا اور گو وہ نشان اور صورتوں میں بھی ظاہر ہو گیا ہے لیکن اگر مولوی ثناء اللہ اور دوسرے مخاطبین نے اس معیاد کے اندر اس قصیدہ اور اس اردو مضمون کا جواب نہ لکھا نہ لکھوایا تو یہ نشان اُن کے ذریعہ سے پورا ہو جائے گا۔سوا نہیں لازم ہے کہ اگر وہ میرے کاروبار کو انسان کا منصوبہ خیال کرتے ہیں تو مقابلہ کر کے اس نشان کو کسی طرح روک دیں اور دیکھو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر وہ اکیلے یا دوسروں کی مدد سے میعاد معینہ کے اندر میرے قصیدہ اور اردو عبارت کے مطابق اور اُن کی تعداد کے مطابق قصیدہ چھپوا کر شائع کرینگے اور تاریخ وصولی سے بارہ دن کے اندر بذریعہ ڈاک میرے پاس بھیج دیں گے تو صرف میں یہی نہیں کروں گا کہ دس ہزار روپیہ اُن کو انعام دوں گا بلکہ اس غلبہ سے میرا جھوٹا ہونا ثابت ہوگا۔اس صورت میں مولوی ثناء اللہ صاحب اور اُن کے رفیقوں کو ناحق کے افتراؤں کی حاجت نہیں رہے گی اور مفت میں اُن کی فتح ہو جائے گی ورنہ اُن کا حق نہیں ہوگا کہ پھر کبھی مجھے جھوٹا کہیں یا میرے نشانوں کی تکذیب کریں۔دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔اگر میں صادق ہوں اور خدا تعالے جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہو گا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اُردو مضمون کا رڈ لکھ سکیں کیونکہ خدا تعالیٰ اُن کی قلموں کو توڑ دے گا اور اُن کے دلوں کو نبی کر دے گا اور مولوی ثناء اللہ کو اس بدگمانی کی طرف راہ نہیں ہے کہ