حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 419
11+1 سے سرکشی کی۔تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۳۰ ۲۳۱) عوام کا یہ غلط خیال دور کرنے کے لئے کہ گویا میاں محمد حسین بطالوی یا دوسرے مخالف مولوی جو اس بزرگ کے ہم مشرب ہیں علم ادب اور حقائق تفسیر کلام الہی میں یدطولیٰ رکھتے ہیں قرین مصلحت سمجھا گیا ہے کہ اب آخری دفعہ اتمام حجت کے طور پر بطالوی صاحب اور ان کے ہم مشرب دوسرے علماء کی عربی دانی اور حقائق شناسی کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے یہ رسالہ شائع کیا جائے اور واضح رہے کہ اس رسالہ میں چہار قصائد اور ایک تفسیر سورۃ فاتحہ کی ہے۔اور اگر چہ یہ قصائد صرف ایک ہفتہ کے اندر بنائے گئے ہیں بلکہ حق یہ ہے کہ چند ساعت میں لیکن بطالوی صاحب اور اُن کے ہم مشرب مخالفوں کے لئے محض اتمام حجت کی غرض سے پوری ایک ماہ کی مہلت دے کر یہ اقرار شرعی قانونی شائع کیا جاتا ہے کہ اگر وہ اس رسالہ کی اشاعت سے ایک ماہ کے عرصہ تک اس کے مقابل پر اپنا فصیح بلیغ رسالہ شائع کر دیں جس میں اسی تعداد کے مطابق اشعار عربیہ ہوں جو ہمارے اس رسالہ میں ہیں۔اور ایسے ہی حقائق اور معارف اور بلاغت کے التزام سے سورۂ فاتحہ کی تفسیر ہو جو اس رسالہ میں لکھی گئی ہے تو ان کو ایک ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا اور نیز یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ بعد بالمقابل قصائد اور تفسیر شائع کرنے کے اگر ان کے قصائد اور ان کی تفسیر نحوی وصرفی اور علم بلاغت کی غلطیوں سے مبرا نکلے اور میرے قصائد اور تفسیر سے بڑھ کر نکلے تو پھر باوصف اپنے اس کمال کے اگر میرے قصائد بالمقابل کے کوئی غلطی نکالیں گے تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام بھی دوں گا مگر یادر ہے کہ نکتہ چینی آسان ہے ایک جاہل بھی کر سکتا ہے مگر نکتہ نمائی مشکل۔تفسیر لکھنے کے وقت یہ یادر ہے کہ کسی دوسرے شخص کی تفسیر کی نقل منظور نہیں ہوگی بلکہ وہی تفسیر لائق منظوری ہوگی جس میں حقائق ومعارف جدیدہ ہوں بشرطیکہ کتاب اللہ اور فرمودہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالف نہ ہوں۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۴۷ تا ۴۹) بعض اسلام کے مخالف یہ حجت پیش کرتے ہیں کہ اگر چہ عقلی طور پر یہی واجب معلوم ہوتا ہے کہ کلامِ خدا بے مثل چاہیے لیکن ایسا کلام کہاں ہے جس کا بے مثل ہونا کسی صریح دلیل سے ثابت ہو۔اگر قرآن بے نظیر ہے تو اس کی بے نظیری کسی واضح دلیل سے ثابت کرنی چاہیے کیونکہ اس کی بے مثل بلاغت پر صرف وہی شخص مطلع ہو سکتا ہے جس کی اصل زبان عربی ہو اور لوگوں پر اس کی بے نظیری حجت نہیں ہوسکتی اور نہ وہ اس سے منتفع ہو سکتے ہیں۔اما الجواب واضح ہو کہ یہ عذر خام انہی لوگوں کا ہے