حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 418

11++ الہام کی تفہیم مجھے اس طرح پر ہوئی کہ کرامت اور نشان کے طور پر قرآن اور زبان قرآن کی نسبت دو طرح کی نعمتیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔(۱) ایک یہ کہ معارف عالیہ فرقان حمید بطور خارق عادت مجھ کو سکھلائے گئے جن میں دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔(۲) دوسرے یہ کہ زبان قرآن یعنی عربی میں وہ بلاغت اور فصاحت مجھے دی گئی کہ اگر تمام علماء مخالفین با ہم اتفاق کر کے بھی اس میں میرا مقابلہ کرنا چاہیں تو نا کام اور نامراد رہیں گے اور وہ دیکھ لیں گے جو حلاوت اور بلاغت اور فصاحت لسان عربی مع التزام حقائق و معارف ونکات میری کلام میں ہے وہ ان کو اور ان کے دوستوں اور ان کے اُستادوں اور اُن کے بزرگوں کو ہرگز حاصل نہیں۔اس الہام کے بعد میں نے قرآن شریف کے بعض مقامات اور بعض سورتوں کی تفسیریں لکھیں اور نیز عربی زبان میں کئی کتا بیں نہایت بلیغ وفصیح تالیف کیں اور مخالفوں کو اُن کے مقابلہ کے لئے بلایا بلکہ بڑے بڑے انعام ان کے لئے مقرر کئے اگر وہ مقابلہ کر سکیں اور ان میں سے جو نامی آدمی تھے جیسا کہ میاں نذیر حسین دہلوی اور ابو سعید محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنة ان لوگوں کو بار بار اس امر کی طرف دعوت کی گئی کہ اگر کچھ بھی ان کو علم قرآن میں دخل ہے یا زبان عربی میں مہارت ہے یا مجھے میرے دعوی مسیحیت میں کا ذب سمجھتے ہیں تو ان حقائق و معارف پر از بلاغت کی نظیر پیش کریں جو میں نے کتابوں میں اس دعوے کے ساتھ لکھے ہیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بالا تر اور خدا تعالیٰ کے نشان ہیں مگر وہ لوگ مقابلہ سے عاجز آگئے نہ تو وہ ان حقائق و معارف کی نظیر پیش کر سکے جن کو میں نے بعض قرآنی آیات اور سورتوں کی تفسیر لکھتے وقت اپنی کتابوں میں تحریر کیا تھا اور نہ ان بلیغ اور فصیح کتابوں کی طرح دو سطر بھی لکھ سکے جو میں نے عربی میں تالیف کر کے شائع کی تھیں۔چنانچہ جس شخص نے میری کتاب نور الحق اور کرامات الصادیقین اور سر الخلافة اور اتمام الحجة وغيره رسائل عربیہ پڑھے ہوں گے اور نیز میرے رسالہ انجام آتھم اور نجم الھدی کی عربی عبارت کو دیکھا ہوگا وہ اس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ ان کتابوں میں کس زور شور سے بلاغت فصاحت کے لوازم کو نظم ونثر میں بجا لایا گیا ہے۔اور پھر کس زور شور سے تمام مخالف مولویوں سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ علم قرآن اور بلاغت سے کچھ حصہ رکھتے ہیں تو ان کتابوں کی نظیر پیش کریں ورنہ میرے اس کاروبار کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر میری حقیت کا نشان اس کو قرار دیں۔لیکن افسوس کہ ان مولویوں نے نہ تو انکار کو چھوڑا اور نہ میری کتابوں کی نظیر بنانے پر قادر ہو سکے۔بہر حال ان پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو گئی اور وہ اس الزام کے نیچے آگئے جس کے نیچے تمام وہ منکرین ہیں جنہوں نے خدا کے مامورین