حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 417

۱۰۹۹ کے لئے پیش کرتا ہوں اور یقین ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کی حقیقت اس سے کھل جائے گی کیونکہ تمام دنیا اندھی نہیں ہے۔انہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو کچھ انصاف رکھتے اور وہ تدبیر یہ ہے کہ آج میں ان متواتر اشتہارات کا جو پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں یہ جواب دیتا ہوں کہ اگر در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب علم معارف قرآن اور زبان عربی کی ادب اور فصاحت بلاغت میں یگانہ روزگار ہیں تو یقین ہے کہ اب تک وہ طاقتیں ان میں موجود ہوں گی کیونکہ لاہور آنے پر ابھی کچھ بہت زمانہ نہیں گزرا۔اس لئے میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اس جگہ بجائے خود سورۃ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعوے کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقائق سورہ ممدوحہ کے بھی بیان کروں اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں اور جس طرح چاہیں سورۃ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مخالف عربی فصیح بلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرماویں۔یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ء کی پندرہ تاریخ سے ستر دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہئیں۔تب اہل علم لوگ خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے اور اگر اہل علم میں سے تین کس جو ادیب اور اہل زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کے رو سے اور کیا معارف قرآنی کے رو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ نقد بلا توقف پیر صاحب کی نذر کروں گا۔ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسن بھیں وغیرہ کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دو چار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چارجز سے کم نہیں ہونی چاہئیے اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵ فروری ۱۹۰۱ء تک جوستر دن ہیں فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تو وہ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کا ذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعِ الْهُدَى - المشتهر میرزا غلام احمد از قادیان ۱۵ دسمبر ۱۹۰۰ء (ضمیمه اربعین نمبر ۳ و ۴ - روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۴۷۹ تا ۴۸۴) مجھے ایک دفعہ یہ الہام ہوا۔اَلرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرانِ۔يَا أَحْمَدُ فَاضَتِ الرَّحْمَةُ عَلَى شَفَتَيْکَ۔یعنی خدا نے تجھے اے احمد قرآن سکھلایا اور تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔اور اس