حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 38

۷۲۰ ہیں۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ عقل سلیم کے نزدیک یہی صحیح ہے جو ان کھڑکیوں کو کھولا جائے تب ہم نہ صرف نور کو پائیں گے بلکہ اس مبدء انوار کو بھی دیکھ لیں گے۔غرض گناہ اور غفلت کی تاریکی دور کرنے کے لئے نور کا پانا ضروری ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ فرماتا ہے۔مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا یعنی جو شخص اس جہان میں اندھا ہو وہ اس دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر یعنی خدا کے دیکھنے کی آنکھیں اور اس کے دریافت کرنے کے حواس اسی جہان سے ملتے ہیں۔جس کو اس جہان میں نہیں ملے اُس کو دوسرے جہان میں بھی نہیں ملیں گے۔راستباز جو قیامت کے دن خدا کو دیکھیں گے وہ اسی جگہ سے دیکھنے والے حواس ساتھ لے جائیں گے اور جو شخص اس جگہ خدا کی آواز نہیں سنے گا وہ اس جگہ بھی نہیں سنے گا۔خدا کو جیسا کہ خدا ہے بغیر کسی غلطی کے پہچاننا اور اسی عالم میں بچے اور صحیح طور پر اس کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل کرنا یہی تمام روشنی کا مبدء ہے۔اسی مقام سے ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ خدا پر بھی موت اور دُکھ اور مصیبت اور جہالت وارد ہو جاتی ہے اور وہ بھی ملعون ہو کر کچی پاکیزگی اور رحمت اور علوم حقہ سے محروم ہو جاتا ہے۔ایسے لوگ گمراہی کے گڑھے میں پڑے ہوئے ہیں اور سچے علوم اور حقیقی معارف جو درحقیقت مدار نجات ہیں ان سے وہ لوگ در حقیقت بے خبر ہیں۔نجات کا مفت ملنا اور اعمال کو غیر ضروری ٹھہرانا جو عیسائیوں کا خیال ہے یہ اُن کی سراسر غلطی ہے۔اُن کے فرضی خدا نے بھی چالیس روزے رکھے تھے۔اور موسی نے کوہ سینا پر روزے رکھے۔پس اگر اعمال کچھ چیز نہیں ہیں تو یہ دونوں بزرگ اس بے ہودہ کام میں کیوں پڑے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بدی سے سخت بے زار ہے تو ہمیں اس سے سمجھ آتا ہے کہ وہ نیکی کرنے سے نہایت درجہ خوش ہوتا ہے۔پس اس صورت میں نیکی بدی کا کفارہ ٹھہرتی ہے۔اور جب ایک انسان بدی کرنے کے بعد ایسی نیکی بجالایا جس سے خدا تعالیٰ خوش ہوا تو ضرور ہے کہ پہلی بات موقوف ہو کر دوسری بات قائم ہو جائے ورنہ خلاف ادب ہو گا۔اسی کے مطابق اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔اِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ کے یعنی نیکیاں بدیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ بدی میں ایک زہریلی خاصیت ہے کہ وہ ہلاکت تک پہنچاتی ہے۔اسی طرح ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ نیکی میں ایک تریاقی خاصیت ہے کہ وہ موت سے بچاتی ہے مثلاً گھر کے تمام دروازوں کو بند کر دینا یہ ایک ے بنی اسرآئیل ۷۳ هود: ۱۱۵