حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 412 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 412

۱۰۹۴ اے کہ میداری تو بر دلها نظر اے کہ از تو نیست چیزے مُستر اے گر تو می بینی مرا پُر فسق و شر گر تو دیداتی که هستم بد گهر سے ے پاره پاره کن من بدکار را شاد کن این زمرہ اغیار را ۳ بر دل شاں ابر رحمت ہا بیار ہر مراد شاں بفضل خود برآر ۴ آتش افشان بر در و دیوار من دشمنم باش ته کن کار من ۵ آستانت یافتی ۲ ور مرا از بندگانت یافتی قبلہ در من و تبه دل من آں محبت دیدہ کر جہاں آں راز را پوشیده که با من از روئے محبت کار گن اند کے افشاء آں اسرار گن 2 اے کہ آئی سُوئے ہر 스 جوئندہ واقفی از سوز ہر سوزنده 2 زاں تعلق با که با تو داشتم زاں محبت با که در دل کاشتم ۱۰ خود بروں آ بیٹے ابراء من اے تو کہف و ملجاء و ما وائے من ال دلم افروختی و زدم آن غیر خود را سوختی ۱۲ آتش کاندر ے اے وہ جو کہ دلوں پر نظر رکھتا ہے اے وہ کہ تجھ سے کوئی چیز بھی چھپی ہوئی نہیں۔اگر تو مجھے نافرمانی اور شرارت سے بھرا ہوا دیکھتا ہے اور اگر تو نے دیکھ لیا ہے کہ میں بدذات ہوں۔سے تو مجھے بد کار کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈال اور میرے ان دشمنوں کے گروہ کو خوش کر دے۔ے ان کے دلوں پر اپنی رحمت کا بادل برسا اور اپنے فضل سے ان کی ہر مراد پوری کر۔۵ میرے درد و یوار پر آگ برسا میرا دشمن ہو جا اور میرا کاروبار تباہ کر دے۔لیکن اگر تو نے مجھے اپنا فرمانبردار پایا ہے اور اپنی بارگاہ کو میرا قبلہ مقصود پایا ہے۔کے اور میرے دل میں وہ محبت دیکھی ہے جس کا بھید تو نے دنیا سے پوشیدہ رکھا ہے۔تو محبت کی رو سے مجھ سے پیش آ اور ان اسرار کو تھوڑا سا ظاہر کر دے۔اے وہ کہ تو ہر متلاشی کے پاس آتا ہے اور ہر جلنے والے کے سوز سے واقف ہے۔ملے تو اس تعلق کے باعث جو میں تجھ سے رکھتا ہوں اور اس محبت کی وجہ سے جو میں نے اپنے دل میں ہوئی ہے۔تو آپ میری بریت کے لیے باہر نکل۔تو ہی میرا حصار اور جائے پناہ اور ٹھکانا ہے۔وہ آگ جو تو نے میرے دل میں روشن کی ہے اور اس کے شعلوں سے تو نے اپنے غیر کو جلا دیا ہے۔