حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 410 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 410

۱۰۹۲ کا تخلف کرنے والا۔حقوق کو تلف کرنے والا۔لوگوں کو گالیاں دینے والا۔عہدوں کو توڑنے والا۔اپنے نفس کے لئے مال جمع کرنے والا اور شریر اور خونی ہے یہ وہ باتیں ہیں جو خود ان لوگوں نے میری نسبت کہیں جو مسلمان کہلاتے اور اپنے تئیں اچھے اور اہل عقل اور پر ہیز گار جانتے ہیں۔اور ان کا نفس اس بات کی طرف مائل ہے کہ در حقیقت جو کچھ وہ میری نسبت کہتے ہیں سچ کہتے ہیں۔اور انہوں نے صد ہا آسمانی نشان تیری طرف سے دیکھے مگر پھر بھی قبول نہیں کیا۔وہ میری جماعت کو نہایت تحقیر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ہر ایک اُن میں سے جو بد زبانی کرتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ بڑے ثواب کا کام کر رہا ہے۔سواے میرے مولا قادر خدا! اب مجھے راہ بتلا اور کوئی ایسا نشان ظاہر فرما۔جس سے تیرے سلیم الفطرت بندے نہایت قوی طور پر یقین کریں کہ میں تیرا مقبول ہوں اور جس سے اُن کا ایمان قوی ہو اور وہ تجھے پہچانیں اور تجھ سے ڈریں اور تیرے اس بندے کی ہدایتوں کے موافق ایک پاک تبدیلی اُن کے اندر پیدا ہو اور زمین پر پاکی اور پر ہیز گاری کا اعلیٰ نمونہ دکھلا دیں اور ہر ایک طالب حق کو نیکی کی طرف کھینچیں اور اس طرح پر تمام قو میں جو زمین پر ہیں تیری قدرت اور تیرے جلال کو دیکھیں اور سمجھیں کہ تو اپنے اس بندے کے ساتھ ہے اور دنیا میں تیرا جلال چمکے اور تیرے نام کی روشنی اس بجلی کی طرح دکھلائی دے کہ جو ایک لمحہ میں مشرق سے مغرب تک اپنے تئیں پہنچاتی اور شمال و جنوب میں اپنی چمکیں دکھلاتی ہے۔لیکن اگر اے پیارے مولا میری رفتار تیری نظر میں اچھی نہیں ہے تو مجھ کو اس صفحہ دنیا سے مٹادے تا میں بدعت اور گمراہی کا موجب نہ ٹھہروں۔میں اس درخواست کے لئے جلدی نہیں کرتا تا میں خدا کے امتحان کرنے والوں میں شمار نہ کیا جاؤں۔لیکن میں عاجزی سے اور حضرت ربوبیت کے ادب سے یہ التماس کرتا ہوں کہ اگر میں اس عالی جناب کا منظور نظر ہوں تو تین سال کے اندر کسی وقت میری اس دعا کے موافق میری تائید میں کوئی ایسا آسمانی نشان ظاہر ہو جس کو انسانی ہاتھوں اور انسانی تدبیروں سے کچھ بھی تعلق نہ ہو جیسا کہ آفتاب کے طلوع اور غروب کو انسانی تدبیروں کے ساتھ کچھ بھی تعلق نہیں۔اگر چہ اے میرے خداوند یہ سچ ہے کہ تیرے نشان انسانی ہاتھوں سے بھی ظہور میں آتے ہیں لیکن اس وقت میں اسی بات کو اپنی سچائی کا معیار قرار دیتا ہوں کہ وہ نشان انسانوں کے تصرفات سے بالکل بعید ہوتا کوئی دشمن اس کو انسانی منصوبہ قرار نہ دے سکے۔سواے میرے خدا تیرے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔اگر تو چاہے تو سب کچھ کر سکتا ہے۔تو میرا ہے جیسا کہ میں تیرا ہوں۔تیری جناب میں الحاج سے دعا کرتا ہوں کہ اگر یہ سچ ہے کہ میں تیری طرف سے ہوں اور اگر یہ سچ ہے کہ تو نے ہی مجھے بھیجا ہے تو تو میری تائید میں اپنا کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو پبلک کی نظر میں انسانوں