حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 409

1+91 ہیں۔جن دلوں پر مہریں ہیں اُن کا ہم کیا علاج کریں۔اے خدا ! تو اس اُمت پر رحم کر۔آمین المشتهر خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۹ / دسمبر ۱۹۰۰ء (ضمیہ اربعین نمبر ۳ ۴۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۴۷۱ تا ۴۷۳) اس عاجز غلام احمد قادیانی کی آسمانی گواہی طلب کرنے کے لئے ایک دعا اور حضرت عزت سے اپنی نسبت آسمانی فیصلہ کی درخواست اے میرے حضرت اعلیٰ ذوالجلال قادر قدوس حتی وقیوم جو ہمیشہ راستبازوں کی مدد کرتا ہے۔تیرا نام ابدال آبادمبارک ہے۔تیرے قدرت کے کام کبھی رُک نہیں سکتے۔تیراقوی ہاتھ ہمیشہ عجیب کام دکھلاتا ہے۔تو نے ہی اس چودھویں صدی کے سر پر مجھے مبعوث کیا اور فرمایا کہ اُٹھ کہ میں نے تجھے اس زمانہ میں اسلام کی حجت پوری کرنے کے لئے اور اسلامی سچائیوں کو دُنیا میں پھیلانے کے لئے اور ایمان کو زندہ اور قوی کرنے کے لئے چنا اور تو نے ہی مجھے کہا کہ ” تو میری نظر میں منظور ہے میں اپنے عرش پر تیری تعریف کرتا ہوں اور تو نے ہی مجھے فرمایا کہ تو وہ مسیح موعود ہے جس کے وقت کو ضائع نہیں کیا جائے گا“ اور تو نے ہی مجھے مخاطب کر کے کہا کہ ” تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید اور تو نے ہی مجھے فرمایا کہ ” میں نے لوگوں کی دعوت کے لئے تجھے منتخب کیا۔اُن کو کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں اور سب سے پہلا مومن ہوں“ اور تو نے ہی مجھے کہا کہ ”میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا اسلام کو تمام قوموں کے آگے روشن کر کے دکھلاؤں اور کوئی مذہب ان تمام مذہبوں میں سے جو زمین پر ہیں برکات میں۔معارف میں تعلیم کی عمدگی میں۔خدا کی تائیدوں میں۔خدا کے عجائب غرائب نشانوں میں اسلام سے ہمسری نہ کر سکے اور تو نے ہی مجھے فرمایا کہ تو میری درگاہ میں وجیہ ہے۔میں نے اپنے لئے تجھے اختیار کیا مگر اے میرے قادر خدا۔تو جانتا ہے کہ اکثر لوگوں نے مجھے منظور نہیں کیا اور مجھے مفتری سمجھا اور میرا نام کافر اور کذاب اور دجال رکھا گیا۔مجھے گالیاں دی گئیں اور طرح طرح کی دل آزار باتوں سے مجھے ستایا گیا اور میری نسبت یہ بھی کہا گیا کہ حرام خور۔لوگوں کا مال کھانے والا۔وعدوں