حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 407
1+19 أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى اَذْهَبَ عَنِى الْحُزْنَ وَاتَانِى مَالَمْ يُؤْتَ اَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ - اَحَدًا مِّنَ العَلَمِین سے مراد زمانہ حال کے لوگ یا آئندہ زمانہ کے ہیں۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۷۹،۴۷۸) میں کمال دعوے سے کہتا ہوں کہ جس قدر خدا تعالیٰ نے میری ہمت اور توجہ اور دُعا سے لوگوں پر برکات ظاہر کی ہیں اس کی نظیر دوسروں میں ہرگز نہیں ملے گی اور عنقریب خدا تعالیٰ اور بھی بہت سے نمونے ظاہر کرے گا یہاں تک کہ دشمن کو بھی سخت ناچار ہو کر ماننا پڑے گا۔میں بار بار یہی کہتا ہوں کہ یہ دو قسم کی برکتیں جن کا نام عیسوی برکتیں اور محمدی برکتیں ہیں مجھ کو عطا کی گئی ہیں۔میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس بات کو جانتا ہوں کہ جو دُنیا کی مشکلات کے لئے میری دعائیں قبول ہوسکتی ہیں دوسروں کی ہرگز نہیں ہوسکتیں اور جو دینی اور قرآنی معارف حقائق اور اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے میں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہرگز نہیں لکھ سکتا۔اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی اور اگر تمام لوگ میرے مقابل پر اُٹھیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے میرا ہی پلہ بھاری ہو گا۔دیکھو میں صاف صاف کہتا ہوں اور کھول کر کہتا ہوں کہ اس وقت اے مسلمانو تم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جو مفسر اور محدث کہلاتے ہیں اور قرآن کے معارف اور حقائق جاننے کے مدعی ہیں اور بلاغت اور فصاحت کا دم مارتے ہیں اور وہ لوگ بھی موجود ہیں جو فقراء کہلاتے ہیں اور چشتی اور قادری اور نقشبندی اور سہروردی وغیرہ کے ناموں سے اپنے تئیں موسوم کرتے ہیں۔اُٹھو! اور اس وقت اُن کو میرے مقابلہ پر لاؤ۔پس اگر میں اس دعوے میں جھوٹا ہوں کہ یہ دونوں شانیں یعنی شانِ عیسوی اور شان محمدی مجھ میں جمع ہیں اور اگر میں وہ نہیں ہوں جس میں یہ دونوں شانیں جمع ہوں گی اور ذ والبروزین ہو گا تو میں اس مقابلہ میں مغلوب ہو جاؤں گا ورنہ غالب آ جاؤں گا۔مجھے خدا کے فضل سے توفیق دی گئی ہے کہ میں شانِ عیسوی کی طرز سے دنیوی برکات کے متعلق کوئی نشان دکھاؤں یا شانِ محمدی کی طرز سے حقائق معارف اور نکات اور اسرارِ شریعت بیان کروں اور میدانِ بلاغت میں قوتِ ناطقہ کا گھوڑا دوڑاؤں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے اور محض اسی کے ارادے سے زمین پر بجز میرے ان دونوں نشانوں کا جامع اور کوئی نہیں ہے اور پہلے سے لکھا گیا تھا کہ ان دونوں نشانوں کا جامع ایک ہی شخص ہو گا جو آخر زمانہ میں پیدا ہوگا اور اس کے وجود کا آدھا حصہ عیسوی شان کا ہو گا اور آدھا حصہ محمدی شان کا۔سو وہی میں ہوں جس نے دیکھنا ہو دیکھے۔جس نے پرکھنا ہو پر کھے۔