حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 37
واء وہی جڑ ہے اور اس ظلمت کا دور ہونا اور اس جہنم سے نجات پانا اگر قانون قدرت کے طریق پر تلاش کی جائے تو کسی کے مصلوب کرنے کی حاجت نہیں۔بلکہ وہی کھڑکیاں کھول دینی چاہئیں جو ظلمت کی باعث ہوئی تھیں۔کیا کوئی یقین کر سکتا ہے کہ ہم درحالیکہ نور پانے کی کھڑکیوں کے بند ر کھنے پر اصرار کریں کسی روشنی کو پا سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔سو گناہ کا معاف ہونا کوئی قصہ کہانی نہیں جس کا ظہور کسی آئندہ زندگی پر موقوف ہو۔اور یہ بھی نہیں کہ یہ امور محض بے حقیقت اور مجازی گورنمنغوں کی نافرمانیوں اور قصور بخشی کے رنگ میں ہیں بلکہ اس وقت انسان کو مجرم یا گنہ گار کہا جاتا ہے کہ جب وہ خدا سے اعراض کر کے اس روشنی کے مقابلہ سے پرے ہٹ جاتا اور اس چمک سے اِدھر اُدھر ہو جاتا ہے جو خدا سے اُترتی اور دلوں پر نازل ہوتی ہے۔اس حالت موجودہ کا نام خدا کی کلام میں جُنَاخ ہے جس کو پارسیوں نے مبدل کر کے گناہ بنا لیا ہے اور جنح جو اس کا مصدر ہے اس کے معنے ہیں میل کرنا اور اصل مرکز سے ہٹ جانا۔پس اس کا نام جُنَاحُ یعنی گناہ اس لئے ہوا کہ انسان اعراض کر کے اس مقام کو چھوڑ دیتا ہے جو الہی روشنی پڑنے کا مقام ہے اور اس خاص مقام سے دوسری طرف میل کر کے اُن نوروں سے اپنے تئیں دُور ڈالتا ہے جو اس سمت مقابل میں حاصل ہو سکتے ہیں۔ایسا ہی جرم کا لفظ جس کے معنی بھی گناہ ہیں جرم سے مشتق ہے اور جرم عربی زبان میں کاٹنے کو کہتے ہیں۔پس مجرم کا نام اس لئے جرم ہوا کہ جرم کا مرتکب اپنے تمام تعلقات خدا تعالیٰ سے کا تنا ہے اور باعتبار مفہوم کے جرم کا لفظ جناح کے لفظ سے سخت تر ہے کیونکہ جناح صرف میل کا نام ہے جس میں کسی طرح کا ظلم ہو مگر مجرم کا لفظ کسی گناہ پر اس وقت صادق آئے گا کہ جب ایک شخص عمد أخدا کے قانون کو تو ڑ کر اور اس کے تعلقات کی پرواہ نہ رکھ کر کسی ناکردنی امر کا دیدہ و دانستہ ارتکاب کرتا ہے۔اب جبکہ حقیقی پاکیزگی کی حقیقت یہ ہوئی جو ہم نے بیان کی ہے تو اب اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ گم شدہ انوار جن کو انسان تاریکی سے محبت کر کے کھو بیٹھتا ہے کیا وہ صرف کسی شخص کو مصلوب ماننے سے مل سکتے ہیں؟ سو جواب یہ ہے کہ یہ خیال بالکل غلط اور فاسد ہے بلکہ اصل حقیقت یہی ہے کہ ان نوروں کے حاصل کرنے کے لئے قدیم سے قانون قدرت یہی ہے جو ہم اُن کھڑکیوں کو کھول دیں جو اس آفتاب حقیقی کے سامنے ہیں۔تب وہ کرنیں اور شعائیں جو بند کرنے سے گم ہو گئی تھیں یک دفعہ پھر پیدا ہو جائیں گی۔دیکھو خدا کا جسمانی قانون قدرت بھی یہی گواہی دے رہا ہے اور کسی ظلمت کو ہم ڈور نہیں کر سکتے جب تک ایسی کھڑکیاں نہ کھول دیں جن سے سیدھی شعائیں ہمارے گھر میں پڑ سکتی