حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 392
۱۰۷۴ میں یہ فرق دکھلا نہ سکتا۔چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۷۲ حاشیه ) قوله۔مرزا صاحب اور سب اہل اسلام کا یہی اعتقاد ہے اور قرآن میں آیا ہے کہ جب آنحضرت ( محمد صاحب) سے لوگوں نے پوچھا کہ روح کیا چیز ہے تو آپ کچھ نہ بتلا سکے اور اس وقت آیت نازل ہوئی کہ اے محمد کہہ دے کہ روح ایک امر ربی ہے۔سو مسلمانوں نے تو روح کو کیا سمجھا ہو گا خدا نے اُن کے ہادی پر بھی روح کی کیفیت ظاہر نہیں کی اور خدا کا بھی کیا جواب عمدہ ہے کہ روح امر رہی ہے کیا اور چیزیں امر ربی نہیں؟ اقول۔لالہ صاحب میں آپ کی غلطیوں کی کہاں تک اصلاح کرتا جاؤں۔آپ نے یہ کس سے سن لیا کہ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خدائے تعالی کی طرف سے علم روح نہیں دیا گیا تھا اور آپ نے قرآن شریف میں کس جگہ اور کہاں دیکھ لیا کہ حضرت ممدوح روح کے علم سے بے خبر تھے میں جانتا ہوں کہ آپ کو اپنی عقل نا تمام کی شامت سے اس آیت کے سمجھنے میں دھو کا لگا ہے جو قرآن شریف میں وارد ہے اور وہ یہ ہے وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيَتُمْ مِنَ الْعِلْمِ منَ الْعِلْم يه (الجزو ۱۵ سورۃ بنی اسرائیل) اور کفار تجھ سے (اے محمد) پوچھتے ہیں کہ روح کیا ہے اور کس چیز سے اور کیونکر پیدا ہوئی ہے ان کو کہہ دے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تم کو اے کافر و علم روح اور علم اسرار الہی نہیں دیا گیا مگر کچھ تھوڑا سا۔سو اس جگہ اے ماسٹر صاحب آپ کو اپنے نقصان فہم سے یہ غلطی لگی کہ آپ نے اس عبارت کا مخاطب ( کہ تم کو علم روح نہیں دیا گیا ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سمجھ لیا۔حالانکہ لفظ مَا أُوتِيتُم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ تم کو نہیں دیا گیا جمع کا صیغہ ہے جو صاف دلالت کر رہا ہے جو اس آیت کے مخاطب کفار ہیں۔۔۔کفار کی ایک جماعت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے بارے میں سوال کیا کہ روح کیا چیز ہے۔تب ایسی جماعت کو جیسا کہ صورت موجودہ تھی بصیغہ جمع مخاطب کر کے جواب دیا گیا کہ روح عالم امر میں سے ہے یعنی کلمتہ اللہ یاظل کلمہ ہے جو بحکمت و قدرت الہی روح کی شکل پر وجود پذیر ہو گیا ہے اور اس کو خدائی سے کچھ حصہ نہیں بلکہ وہ درحقیقت حادث اور بندہ خدا ہے اور یہ قدرت ربانی کا ایک بھید دقیق ہے جس کو تم اے کا فرد سمجھ نہیں سکتے مگر کچھ تھوڑا سا جس کی وجہ سے تم مکلف بایمان ہو۔تمہاری عقلیں بھی دریافت کر سکتی ہیں۔۔بنی اسرائیل: ۸۶