حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 391

۱۰۷۳ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اور نفسانی تاریکیوں سے باہر آنے کے لئے پورا زور لگاتے ہیں اور خدا کی رضا جوئی کے لئے تلخ زندگی اختیار کرتے ہیں گویا مر ہی جاتے ہیں۔غرض جیسا کہ آیت موصوفہ بالا بیان فرما رہی ہے۔روح کو بھی موت ہے جیسا جسم کو اگر چہ اس عالم کی نہایت مخفی کیفیتیں اس تاریک دنیا میں ظاہر نہیں ہوتیں لیکن بلا شبہ عالم رویا یعنی خواب کا عالم اس عالم کے لئے ایک نمونہ ہے۔اور جوموت اس عالم میں رُوح پر وارد ہوتی ہے اس موت کا نمونہ عالم خواب میں بھی پایا جاتا ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ معا آنکھ بند ہونے کے ساتھ ہی ہماری رُوح کی تمام صفات الٹ پلٹ ہو جاتی ہیں۔اور اس بیداری کا تمام سلسلہ فراموش ہو جاتا ہے اور تمام روحانی صفات اور تمام علوم جو ہماری روح میں تھے کالعدم ہو جاتے ہیں اور حالت خواب میں وہ نظارے رُوح کے ہمارے پیش نظر آجاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اب وہ ہماری رُوح کچھ اور ہی ہے اور تمام صفات اس کے جو بیداری میں تھے کھوئے گئے ہیں اور یہ ایک ایسی حالت ہے جو موت سے مشابہ بلکہ ایک قسم کی موت ہے اور یہ قطعی اور یقینی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ موت جو جسم کی موت کے ساتھ رُوح پر وارد ہوتی ہے وہ ایسی موت کے ساتھ مشابہ ہے جو نیند کی حالت میں روح پر وارد ہوتی ہے مگر وہ موت اس موت کی نسبت بہت بھاری ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۰ تا ۱۶۴) وہ اعتقاد جو قرآن شریف نے سکھایا ہے یہ ہے کہ جیسا کہ خدا نے ارواح کو پیدا کیا ہے ایسا ہی وہ ان کے معدوم کرنے پر بھی قادر ہے اور انسانی روح اُس کی موہبت اور فضل سے ابدی حیات پاتی ہے نہ اپنی ذاتی قوت سے۔یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اپنے خدا کی پوری محبت اور پوری اطاعت اختیار کرتے ہیں اور پورے صدق اور وفاداری سے اس کے آستانہ پر جھکتے ہیں ان کو خاص طور پر ایک کامل زندگی بخشی جاتی ہے اور ان کے فطرتی حواس میں بھی بہت تیزی عطا کی جاتی ہے اور اُن کی فطرت کو ایک نور بخشا جاتا ہے۔جس نور کی وجہ سے ایک فوق العادت روحانیت ان میں جوش مارتی ہے اور تمام روحانی طاقتیں جو دنیا میں رکھتے تھے موت کے بعد بہت وسیع کی جاتی ہیں اور نیز مرنے کے بعد وہ اپنی خداداد مناسبت کی وجہ سے جو حضرت عزت سے رکھتے ہیں آسمان پر اُٹھائے جاتے ہیں۔جس کو شریعت کی اصطلاح میں رفع کہتے ہیں لیکن جو مومن نہیں ہیں اور جو خدا تعالیٰ سے صاف تعلقات نہیں رکھتے یہ زندگی اُن کو نہیں ملتی اور نہ یہ صفات اُن کو حاصل ہوتی ہیں اس لئے وہ لوگ مُردہ کے حکم میں ہوتے ہیں۔پس اگر خدا تعالیٰ روحوں کا پیدا کرنے والا نہ ہوتا تو وہ اپنے قادرانہ تصرف سے مومن اور غیر مومن