حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 386
۱۰۶۸ ایسی چیز جو مظہر جمیع عجائبات صنعت الہی ہے مصنوع اور مخلوق ہونے سے باہر نہیں رہ سکتی بلکہ وہ سب چیزوں سے اول درجہ پر مصنوعیت کی مُہر اپنے وجود پر رکھتی ہے اور سب سے زیادہ تر اور کامل تر صانع قدیم کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔سو اس دلیل سے روحوں کی مخلوقیت صرف نظری طور پر ثابت نہیں بلکہ در حقیقت اجلی بدیہات ہے۔ماسوا اس کے دوسری چیزوں کو اپنی مخلوقیت کا علم نہیں مگر رُوحیں فطرتی طور پر اپنی مخلوقیت کا علم رکھتی ہیں۔ایک جنگلی آدمی کی روح بھی اس بات پر راضی نہیں ہو سکتی کہ وہ خود بخود ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلَستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی لے لینے روحوں سے میں نے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب (پیدا کنندہ نہیں ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔یہ سوال و جواب حقیقت میں اس پیوند کی طرف اشارہ ہے جو مخلوق کو اپنے خالق سے قدرتی طور پر متحقق ہے جس کی شہادت رُوحوں کی فطرت میں نقش کی گئی ہے۔پنجم جس طرح بیٹے میں باپ اور ماں کا کچھ کچھ حلیہ اور خو بو پائی جاتی ہے۔اسی طرح روحیں جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے نکلی ہیں اپنے صانع کی سیرت وخصلت سے اجمالی طور پر کچھ حصہ رکھتے ہیں۔اگر چہ مخلوقیت کی ظلمت و غفلت غالب ہو جانے کی وجہ سے بعض نفوس میں وہ رنگ الہی کچھ پھیکا سا ہو جاتا ہے لیکن اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ہر یک روح کسی قدر وہ رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔اور پھر بعض نفوس میں وہ رنگ بد استعمالی کی وجہ سے بدنما معلوم ہوتا ہے مگر یہ اس رنگ کا قصور نہیں بلکہ طریقہ استعمال کا قصور ہے۔انسان کی اصلی قوتوں اور طاقتوں میں سے کوئی بھی بُری قوت نہیں صرف بد استعمالی سے ایک نیک قوت بُری معلوم ہونے لگتی ہے۔اگر وہی قوت اپنے موقع پر استعمال کی جائے تو وہ سراسر نفع رساں اور خیر محض ہے اور حقیقت میں انسان کو جس قدر قو تیں دی گئی ہیں وہ سب الہی قوتوں کے اظلال و آثار ہیں۔جیسے بیٹے کی صورت میں کچھ کچھ باپ کے نقوش آ جاتے ہیں ایسا ہی ہماری روحوں میں اپنے رب کے نقوش اور اس کی صفات کے آثار آگئے ہیں جن کو عارف لوگ خوب شناخت کرتے ہیں اور جیسے بیٹا جو باپ سے نکلا ہے اس سے ایک طبعی محبت رکھتا ہے نہ بناوٹی۔اسی طرح ہم بھی جو اپنے رب سے نکلے ہیں اس سے فی الحقیقت طبعی محبت رکھتے ہیں نہ بناوٹی اور اگر ہماری روحوں کو اپنے رب سے یہ طبعی و فطرتی تعلق نہ ہوتا تو پھر سالکین کو اس تک پہنچنے کے لئے کوئی صورت اور سبیل نہ تھی۔۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۶۷ تا ۱۶۹) الاعراف: ۱۷۳