حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 385

۱۰۶۷ کسی چیز سے کچی خوشحالی نہ پانا یہ انسانی فطرت میں داخل ہے۔یعنی خدا نے اس خواہش کو انسانی روح میں پیدا کر رکھا ہے جو انسانی روح کسی چیز سے تسلی اور سکینت بجز وصال الہی کے نہیں پاسکتی۔پس اگر انسانی روح میں یہ خواہش موجود ہے تو ضرور ماننا پڑتا ہے کہ روح خدا کی پیدا کردہ ہے جس نے اس میں یہ خواہش ڈالدی مگر یہ خواہش تو در حقیقت انسانی روح میں موجود ہے۔اس سے ثابت ہوا کہ انسانی روح درحقیقت خدا کی پیدا کردہ ہے۔(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۶۴،۳۶۳) واضح رہے کہ ارواح کا حادث اور مخلوق ہونا قرآن شریف میں بڑی بڑی قوی اور قطعی دلائل سے بیان کیا گیا ہے چنانچہ برعایت ایجاز و اجمال چند دلائل ان میں سے نمونہ کے طور پر اس جگہ لکھے جاتے ہیں۔اول یہ بات بہ بداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں ہمیشہ اور ہر حال میں خدائے تعالیٰ کی ماتحت اور زیر حکم ہیں اور بجز مخلوق ہونے کے اور کوئی وجہ موجود نہیں جس نے روحوں کو ایسے کامل طور پر خدائے تعالیٰ کے ماتحت اور زیرحکم کر دیا ہو۔سو یہ روحوں کے حادث اور مخلوق ہونے پر اول دلیل ہے۔دوم یہ بات بھی بہ بداہت ثابت ہے کہ تمام روحیں خاص خاص استعدادوں اور طاقتوں میں محدود اور محصور ہیں۔جیسا کہ بنی آدم کے اختلاف روحانی حالات و استعدادات پر نظر کر کے ثابت ہوتا ہے اور یہ تحدید ایک محدّد کو چاہتی ہے جس سے ضرورت محدث کی ثابت ہوکر ( جو محدّد ہے ) حدوث روحوں کا بپایہ ثبوت پہنچتا ہے۔سوم یہ بات بھی کسی دلیل کی محتاج نہیں کہ تمام روحیں عجز و احتیاج کے داغ سے آلودہ ہیں اور اپنی تکمیل اور بقا کے لئے ایک ایسی ذات کی محتاج ہیں جو کامل اور قادر اور عالم اور فیاض مطلق ہو اور یہ امران کی مخلوقیت کو ثابت کرنے والا ہے۔چہارم یہ بات بھی ایک ادنیٰ غور کرنے سے ظاہر ہوتی ہے کہ ہماری روحیں اجمالی طور پر ان سب متفرق الہی حکمتوں اور صنعتوں پر مشتمل ہیں جو اجرام علوی وسفلی میں پائے جاتے ہیں۔اسی وجہ سے دنیا باعتبار اپنے جزئیات مختلفہ کے عالم تفصیلی ہے اور انسان عالم اجمالی کہلاتا ہے۔یا یوں کہو کہ یہ عالم صغیر اور وہ عالم کبیر ہے۔پس جبکہ ایک جزئی عالم کے بوجہ پائے جانے پر حکمت کاموں کے ایک صانع حکیم کی صنعت کہلاتی ہے تو خیال کرنا چاہئے کہ وہ چیز کیونکر صنعت الہی نہ ہوگی جس کا وجود اپنے عجائبات ذاتی کے رو سے گویا تمام جزئیات عالم کی عکسی تصویر ہے اور ہر یک جزئی کے خواص عجیبہ اپنے اندر رکھتی ہے اور حکمت بالغہ ایزدی پر بوجہ اتم مشتمل ہے۔