حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 378
تربیت اولاد میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔گویا بدمزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والا آدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں بڑھتے بڑھتے ایک دشمن کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں کوسوں تجاوز کر جاتا ہے۔اگر کوئی شخص خود دار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بُردبار اور باسکون اور باوقار ہو تو اُسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کو سزا دے یا چشم نمائی کرے مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اور طائش العقل ہرگز سزا وار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔جس طرح اور جس قدر سزا دینے میں کوشش کی جاتی ہے کاش دعا میں لگ جائیں اور بچوں کے لئے سوز دل سے دعا کرنے کو ایک حزب مقرر ٹھہرالیں اس لئے کہ والدین کی دعا کو بچوں کے حق میں خاص قبول بخشا گیا ہے۔(الحکم، مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۰ء صفحہ ۱۱ کالم نمبر ۳۔ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۰۹،۳۰۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) ہدایت اور تربیت حقیقی خدا کا فعل ہے۔سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرنا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہئے۔ہم تو اپنے بچوں کے لئے دُعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔بس اس سے زیادہ نہیں اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں جیسا کسی میں سعادت کا تم ہو گا وقت پر سرسبز ہو جائے گا۔الحکم مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ء صفحہ کالم نمبر ۲۔ملفوظات جلد اول صفحه ۳۰۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)